Friday, 20 June, 2008, 04:10 GMT 09:10 PST
نیٹو اور افغان فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان جنگجوؤں کو افغانستان کے جنوبی شہر قندھار کے مضافات سے مار بھگایا ہے۔
نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ فوجوں کو ارغنداب ڈسٹرکٹ میں بہت کم مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
افغعان حکام کا کہنا ہے کہ چھپن طالبان اور دو افغان فوجی جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ تاہم اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کارروائی بدھ کے روز شروع ہوئی۔ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ارغنداب ڈسٹرکٹ کا بڑا حصہ ان کے قبضے میں ہے۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں نیٹو کے ترجمان نے کہا کہ فوج کا اس علاقے پر قبضہ ہے۔ جنرل کارلوس برانکو نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کا بتایا ’ہمارا خیال ہے کہ طالبان کی وہ تعداد اور قبضہ اس علاقے پر نہیں تھا جس کا انہوں نے دعویٰ کیا تھا۔ اور انہوں نے نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔‘
قبل ازیں قندھار کے گورنر اسد اللہ خالد نے کہا کہ ’طالبان کے سینکڑوں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی پاکستانی تھے‘۔
بی بی سی کے مارٹن پیشنس نے بتایا کہ افغان حکومت نے اس کارروائی کو سراہا ہے۔
قندھار شہر کے قریبی شہروں میں رہنے والے لوگوں اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں ضلع ارغنداب سے سینکڑوں خاندانوں نے نقل مکانی کی ہے۔
جمعہ کو شہر کی جیل سے ساڑھے تین سو طالبان جنگجو فرار ہو گئے تھے۔
افغان اور نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کی جانب سے کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر فوجی نفری کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔
ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ جیل سے فرار ہونے والے طالبان جنگجو بھی پیر کے روز دیہاتوں پر قبضہ کرنے والے طالبان میں شامل ہیں یا نہیں۔
افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل ظاہر عظیمی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’طالبان اپنے ٹھکانے مسلسل تبدیل کرتے رہتے ہیں اور کسی جگہ بھی زیادہ وقت نہیں رکتے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس کے علاوہ انہوں کچھ پل بھی اڑا دیے ہیں لیکن ہم انہیں ہر جگہ تلاش کر رہے ہیں‘۔