Thursday, 19 June, 2008, 11:46 GMT 16:46 PST
غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی شروع ہوگئی ہے جس کا مقصد غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور غزہ سے اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر راکٹ حملے روکنا ہے۔
اس جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں دو طرفہ جارحانہ کارروائیوں کی روک تھام اور غزہ کی سرحد کو جزوی طور پر کھولنا شامل ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں اسرائیلی فوجی گلاد شالت کی رہائی اور مصر کے ساتھ رفاع کراسنگ کھولنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
اسرائیل نے جنگ بندی کی کامیابی کے لیے تین شرائط رکھی ہیں۔ ان شرائط میں کارروائیوں کا مکمل خاتمہ، مصر سے اسلحہ کی غزہ سمگلنگ کی بندش اور اسرائیلی فوجی گلاد شالت کی رہائی میں پیشرفت شامل ہیں۔
تاہم بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق جنگ بندی کے اطلاق سے قبل ہونے والے حملوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسے کتنے خطرات لاحق ہیں۔
جنگ بندی کے آغاز سے قبل چالیس راکٹ اور مارٹر غزہ سے اسرائیلی علاقے میں داغے گئے جبکہ اسرائیلی فوج نے ہوائی حملے میں ایک فلسطینی جنگجو کو ہلاک کر دیا۔
اسرائیل پر حالیہ راکٹ حملوں کی ذمہ داری اسلامک جہاد نے قبول کی ہے۔اسلامک جہاد کے سینئر رہنما نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی تنظیم جنگ بندی کی خلاف ورزی نہیں کرے گی لیکن کسی بھی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کا حق رکھتی ہے۔
بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی جلد ختم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کا احترام کرے گا لیکن فوجیں کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ’ہمیں کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کیونکہ عسکریت پسند تنظیمیں بشمول حماس نے اپنا مقصد تبدیل نہیں کیا ہے‘۔ حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی استحکام لائے گی اگر اسرائیل اس کی خلاف ورزی نہ کرے تو۔
بی بی سی کے ٹم فرینکس کے مطابق جنگ بندی سے جنوبی اسرائیل میں اسرائیلیوں کو روزانہ کے راکٹ حملوں سے چھٹکارا ملے گا تاہم کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس جنگ بندی سے حماس کو مسلح ہونے اور اپنے آپ کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔
بی بی سی کے علیم مقبول کا کہنا ہے کہ دیکھنا یہ ہے کہ کیا حماس دیگر عسکریت پسند تنظیموں کو کنٹرول کر پائے گی اور کیا مغربی کنارے میں ہلاکتیں ہونے پر یہ تنظیمیں جوابی کارروائی کریں گی یا نہیں۔ واضح رہے کہ اس جنگ بندی کا اطلاق مغربی کنارے پر نہیں ہے۔
حماس کے حکام کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ غزہ میں موجود تمام عسکریت پسند تنظیمیں مصر کی کوششوں سے ہونے والی جنگ بندی کا
احترام کریں گے۔
حماس کے حکام کا کہنا ہے کہ ان کو امید ہے کہ جنگ بندی سے اسرائیل سے غزہ میں داخلے کے مزید راستے کھولے جائیں گے۔ انہوں نے کہا
کہ اب مقصد قیدیوں کی رہائی کا ہے اور حماس اور فتح کے مابین نئی بات چیت کا ہے۔