Tuesday, 17 June, 2008, 04:14 GMT 09:14 PST
چین کے مسلم اکثریتی صوبے سن جیانگ میں اولمپک مشعل کے پہنچنے پر حکام نے سیکورٹی کے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔
صوبے کے دارلحکومت ارمچی کے پیپلز سکوائر سے یہ مشعل پورے شہر میں لیجائی جائے گی۔ اولمپک مشعل اس علاقے میں تین روز تک رہے گی جہاں اوئیگر نسل کے اسی لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ سن جیانگ کی مسلم آبادی کے ساتھ چینی حکام کے تعلقات ماضی میں کشیدہ رہے ہیں اور حکام کو خدشہ ہے کہ علیحدگی پسند یہاں اولمپک کی تقریبات میں رخنہ ڈال سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے اس علاقے میں مشعل کو طے شدہ پروگرام سے ایک ہفتہ پہلے لیجایا گیا ہے جبکہ تبت کے دارلحکومت لہاسہ میں مشعل کو ایک ہفتے تاخیر سے پہنچایا جائے گا۔
ارمچی میں اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات میں گاڑیوں کی چیکنگ کی گئی، شہر میں پٹاخے چھوڑنے پر پابندی عائد کی گئی اور لوگوں سے پیدل چلنے والے پلوں سے دور رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔
پیپلز سکوائر میں داخل ہونے والے لوگوں کو دھاتی ڈیٹیکٹرز سے گزرنا پڑا اور ان کے تھیلوں کی تلاشی بھی لی گئی۔
اس موقع پر پیپلز سکوائر میں جمع ہونے والے تین ہزار میں سے زیادہ تر افراد چینی ہن نسل کے تھے۔ کئی مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر چینی ہن نسل کے لوگوں کی علاقے میں آباد کاری پر اعتراض ہے۔ علاقے میں کچھ گروپ سن جیانگ کو ایک آزاد اسلامی ریاست بھی بنانا چاہتے ہیں۔
چین کی حکومت ان گروپوں پر القاعدہ سے تعلق کا الزام لگاتی ہے اور اس کا دعوٰی ہے کہ اس سال اس نے ان گروپوں کی طرف سے اولمپک تقریبات میں تشدد کی دو کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں چینی حکومت پر القاعدہ سے تعلق کے الزام کی آڑ میں علیحدگی کی تحریک کچلنے کا الزام عائد کرتی ہیں۔