http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 17 June, 2008, 12:16 GMT 17:16 PST

اوباما کے لیے الگور کی مہم

امریکہ کے سابق نائب صدر الگور نے صدارتی انتخابات میں باراک اوباما کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ڈیموکریٹس پر زور دیا ہے کہ وہ متحد ہوجائیں۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بِیل نے بتایا ہے کہ امریکہ کی ریاست مشیگن میں ایک جلوس سے خطاب کرتے ہوئے الگور نے کہا ہے کہ آٹھ سالہ نا اہلی، نظراندازی اور ناکامی کے بعد باراک اوباما تبدیلی لائیں گے۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی جانب سے نامزدگی حاصل کرنے کے لیے ہلیری کلنٹن اور باراک اوباما کے درمیاں پرائمری کی سطح پر حمایت کے حصول کی مہم میں الگور نے خود کو الگ تھلگ رکھا اور کسی امیدوار کی حمایت نہیں کی۔

لیکن جب ہلیری کلنٹن نے اپنی انتخابی مہم معطل کردی تو اب الگور میدان میں اترے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پارٹی ٹکٹ ملنے کے بعد سب کو متحد ہوکر باراک اوباما کی کامیابی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

الگور کی باراک اوباما کے لیے اس سطح پر حمایت کو خاصی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی میں الگور کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ان کے باراک اوباما کے ہمراہ سٹیج پر آنے سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ کافی حد تک ڈیموکریٹس کو متحد کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

الگور بل کلنٹن کے نائب رہے ہیں اور سن دو ہزار کے انتخاب میں صدر جارج ڈبلیو بش سے تقریبا صدارتی انتخابات جیت چکے تھے۔ ان کی ساکھ میں حال میں اس وقت اضافہ ہوا جب انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی کی عالمی مہم شروع کی۔

مشیگن میں خطاب کے دوران الگور نے باراک اوباما کو امریکہ کے سابق صدر جان ایف کینیڈی سے تشبیہ دی اور کہا کہ وہ بھی ان کی طرح ایک نوجوان رہنما ہیں جو لوگوں کو متحرک کرتے ہیں۔

الگور نے کہا کہ ’آٹھ سالہ نااہلی، نظر اندازی اور ناکامی کے دور کے بعد ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ آٹھ سالہ دور میں ہمارے آئین کو بے توقیر کیا گیا‘۔

اس موقع پر باراک اوباما نے الگور کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ڈیموکریٹس کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک وسیع النظر شخصیت ہیں۔