http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 14 June, 2008, 12:17 GMT 17:17 PST

صدر بش کا الوداعی دورہ پیرس

امریکی صدر جارج بش اور فرانس کے صدر نکولا سارکوزی نے پیرس میں مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات انتہائی مضبوط ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام اور افغانستان میں درپیش مسائل سے نمٹنے کے لیے تعاون کی ضرورت سمیت متعدد اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

لیکن پیرس سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ملاقات کے دوران جو جذبہ غالب رہا وہ یہ تھا کہ دونوں ملکوں میں اب بے پناہ نظریاتی مماثلت ہے۔

صدر بش کے اس دورہ کو دونوں ملکوں کے درمیان تیزی سے مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کے ایک اور ثبوت کے طور پر دیکھا جارہا ہے جو عراق پر امریکہ کی پالیسی کی وجہ سے کافی خراب ہوگئے تھے۔ جمعہ کی شب ایک خطاب کے دوران صدر بش نے فرانس اور امریکہ کے گہرے اور تاریخی روابط کا ذکر کیا۔

ایک برس قبل اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسٹر سارکوزی نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی بھرپور کوششیں کی ہیں۔ ان کے پیش رو ژاک شیراک عراق پر حملے کے خلاف تھے اور انہیں جرمنی کی بھی حمایت حاصل تھی۔

سنیچر کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سارکوزی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات دو سو سال پرانے ہیں۔

ییرس میں نامہ نگار ہیو سکوفیلڈ کے مطابق دونوں رہنماؤں کےدرمیان تو اچھی دوستی ہے لیکن عوام میں مسٹر بش کو مقبولیت حاصل نہیں ہے۔

لیکن اس دورے پر ان کے خلاف مظاہرے نہیں ہوئے ہیں کیونکہ اب لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ وہائٹ ہاؤس میں ان کا وقت ختم ہورہا ہے۔