http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 12 June, 2008, 12:26 GMT 17:26 PST

قذافی کی باراک اوباما پر تنقید

لیبیا کے رہنما کرنل معمر قذافی نے امریکی صدارتی امیدوار باراک اوباما کے اس بیان پر سخت تنقید کی ہے کہ یروشلم کو منقسم نہیں کرنا چاہیے اور یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت رہنا چاہیے۔

کرنل قدافی نے یہ بات طرابلس میں ویلاس ائر بیس سے امریکی فوجیوں کے نکلنے کی اڑتیسویں برسی کے موقع پر کی۔ امریکی لیبیا سے کرنل قذافی کے انیس سو انہتر میں اقتدار میں آنے کے بعد چلے گئے تھے۔

طرابلس میں بی بی سی کے نامہ نگار رانا جواد کے مطابق کرنل قذافی نے اپنی تقریر میں لیبیا سے متعلق امریکی پالسیوں پر تنقید کی تاہم یہ بھی کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی نہیں ہے۔

لیکن تقریر کے آخری حصے میں کرنل قذافی نے امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما پر کُھل کر تنقید کی۔ انہوں نے اوباما کی اس تقید کے حوالے سے بات کی جس میں اوباما نے اسرائیل حامی لابی سے کہا تھا کہ یروشلم کو منقسم نہیں کرنا چاہیے اور اس مقدس شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت رہنا چاہیے۔

کرنل قذافی نے اوباما کا ذکر ان کو ’کینیا کے ہمارے بھائی‘ کہہ کر کیا (اوباما کے والد کا تعلق کینیا سے تھا جبکہ ان کی والدہ امریکی ہیں)۔ کرنل قذافی نے کہا کہ شائد افریقی نژاد ہونے کی وجہ سے اوباما احساسِ کمتری کے شکار ہیں اور اس لیے ان کا رویہ ’سفید فام لوگوں سے بھی زیادہ سفید فام ہے‘ جبکہ ان کو عرب اور افریقی ممالک کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔

کرنل قذافی کا کہنا تھا کہ اوباما کے بیانات سے لگتا ہے کہ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے مسئلے پر تحقیق ہی نہیں کی اور اس سے بین الاقوامی سیاست پر ان کی لا علمی ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوباما کو چاہیے کہ وہ سیاہ فام ہونے پر فخر کریں اور یہ محسوس کریں کہ پورا افریقہ ان کے ساتھ ہے۔

کرنل قذافی نے کہا کہ اوباما کے اسرائیل حامی بیان کی ایک اور وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہیں ڈر ہے کہ اسرائیلی ایجنٹ انہیں قاتلانہ حملہ کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بقول کرنل قذافی صدر جان ایف کینیڈی کا قتل بھی ان کے اس بیان کے بعد ہوا تھا کہ وہ اسرائیل کے جوہری پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کریں گے۔