Monday, 09 June, 2008, 17:42 GMT 22:42 PST
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق کے وزیراعظم سے کہا ہے کہ عراق کی مشکلات کی بڑی وجہ ملک میں امریکی افواج کی موجودگی ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ کی عراق کے بارے میں خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔
بی بی سی کے جون لین نے تہران سے بتایا ہے کہ ایرانی میڈیا کے بقول آیت اللہ خامنہ ای نے عراق کے وزیراعظم نوری المالکی کو بتایا کہ ’عراق کی حکومت اور عوام کی راہ میں اس ملک کے داخلی امور میں مداخلت کرنے والی قابض فوج حائل ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا ’ہمیں یقین ہے کہ عراقی عوام اتحاد اور نظم و ضبط سے اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں اور بے شک امریکہ کی خواہش پوری نہیں ہو گی‘۔
عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی کا یہ ایران کا رواں سال میں دوسرا دورہ ہے اور انہوں نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ ان کو عراق کی جانب سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ عراق کی سر زمین سے ہمسایہ ملک ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے‘۔
عراق کی کوشش ہے کہ ایران کو بغداد اور واشنگٹن کے درمیان سکیورٹی معاہدے کے سلسلے میں مطمئن کرائے۔ اس معاہدے کے تحت امریکہ عراق میں اپنے مستقل فوجی اڈے بنا سکتا ہے۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اکتیس دسمبر کو اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہو رہا ہے اور یہ معاہدہ ضروری ہے تاکہ سکیورٹی کے حوالے سے خلاء نہ رہے۔
وزیراعظم نوری المالکی پر واشنگٹن سے دباؤ ہے کہ وہ یہ معاہدہ کریں تاہم عراقی عوام اس کے خلاف ہیں۔ میڈیا نے عراقی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکہ عراق میں پچاس اڈے رکھنا چاہتا ہے تاہم اس امریکہ نے اس کی تردید کی ہے۔