http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 08 June, 2008, 01:00 GMT 06:00 PST

عراق ایران بہتر تعلقات کی کوشش

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی ایران پہنچ چکے ہیں جہاں وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ نوری المالکی تہران میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے ساتھ مذاکرات کے دوران عراق میں شیعہ ملیشیا کو ملنے والی مبینہ ایرانی حمایت کا معاملہ اٹھائیں گے۔

عراق اور امریکہ کے تعلقات کے مستقبل پر بغداد اور واشنٹگن کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی تہران مذاکرات میں زیربحث ہوگی۔

بغداد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی اہلکار بھی نوری المالکی کے ساتھ تہران جارہے ہیں جہاں وہ عراق میں شیعہ ملیشیا کو ملنے والی ایرانی حمایت کے ثبوت دکھائیں گے۔

ایران نے ہمیشہ عراق میں مداخلت سے انکار کیا ہے۔ لیکن عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی ایک بار پھر تہران سے شیعہ ملیشیا کی حمایت ختم کر کے عراق کی حمایت کرنے کی اپیل کریں گے۔

ایران نے عراق اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ یہ مذاکرات اس سال عراق میں اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہونے کے بعد امریکی افواج کی عراق میں موجودگی کی قانونی حیثیت پر ہو رہے ہیں۔

عراق اور امریکہ کے مذاکرات میں اب تک بعض نکات پر اختلافات پائے جاتے رہے ہیں جن کا تعلق عراق کے اقتدار اعلیٰ سے ہے۔ بعض عراقی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایران ان مذاکرات کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

نوری المالکی ایران کو یقین دلائیں گے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کا مقصد عراق کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔