http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 07 June, 2008, 13:34 GMT 18:34 PST

نوری المالکی ایران جارہے ہیں

عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی ایران کا دورہ کرنے والے ہیں جہاں وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ نوری المالکی تہران میں مذاکرات کے دوران عراق میں شیعہ ملیشیا کو ملنے والی ایرانی حمایت کا معاملہ اٹھائیں گے۔

عراق اور امریکہ کے تعلقات کے مستقبل پر بغداد اور واشنٹگن کے درمیان ہونے والی بات چیت بھی تہران مذاکرات میں زیربحث ہوگی۔

بغداد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی سکیورٹی اہلکار بھی نوری المالکی کے ساتھ تہران جارہے ہیں جہاں وہ عراق میں شیعہ ملیشیا کو ملنے والی ایرانی حمایت کے ثبوت دکھائیں گے۔

گزشتہ مارچ اور مئی میں مہدی ملیشیا سمیت دیگر تنظیموں کے جنگجوؤں نے بغداد اور بصرہ میں عراقی اور امریکی افواج کے خلاف زبردست لڑائی لڑی تھی۔

ایران نے ہمیشہ عراق میں مداخلت سے انکار کیا ہے۔ لیکن عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نوری المالکی ایک بار پھر تہران سے شیعہ ملیشیا کی حمایت ختم کرکے عراق کی حمایت کرنے کی اپیل کریں گے۔

ایران نے عراق اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی مخالفت کی ہے۔ یہ مذاکرات اس سال عراق میں اقوام متحدہ کا مینڈیٹ ختم ہونے کے بعد امریکی افواج کی عراق میں موجودگی کی قانونی حیثیت پر ہو رہے ہیں۔

عراق اور امریکہ کے مذاکرات میں اب تک بعض نکات پر اختلافات پائے جاتے رہے ہیں جن کا تعلق عراق کی اقتدار اعلیٰ سے ہے۔ بعض عراقی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایران ان مذاکرات کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

نوری المالکی ایران کو یقین دلائیں گے کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ایران کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا، بلکہ اس کا مقصد عراق کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔