Friday, 06 June, 2008, 13:33 GMT 18:33 PST
ترکی کے وزیر اعظم سکارف پہننے کی اجازت کے خلاف عدالت کے فیصلے کے حوالے سے اپنی جماعت کی ایک ہنگامی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔
ترکی کی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ سکارف پہننے کی اجازت ترکی کے آئین کی نفی کرتا ہے۔
ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان اس فیصلے کے حوالے سے حکمت عملی تیار کرنے کے لیے اپنی جماعت کے عہدیداروں سے مل رہے ہیں۔
اے کے پی کے ایک رہنما باقر بوزدگ کا کہنا ہے کہ آئینی عدالت اس فیصلے میں اپنی حد سے تجاوز کیا ہے۔ تاہم جماعت کے سینیئر رہنما بشمول وزیر اعظم اور صدر نے اس فیصلے پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔
ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اُس مقدمے کے فیصلے پر حاوی ہو جائے گا جس میں وزیر اعظم کی جماعت اے کے پارٹی کو کالعدم قرار دیے جانے کا خطرہ ہے۔
ترکی کی میڈیا نے کہا ہے کہ عدالت کے سکارف کے حوالے سے فیصلہ اردگان کی ایک بڑی سیاسی شکست ہے۔
وطن اخبار نے لکھا ہے ’اے کے پی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ اب ناگزیر ہو گیا ہے۔‘
بی بی سی کے ڈیوڈ او بائرن کا کہنا ہے کہ اے کے پی کے چند ممبران کا کہنا ہے کہ ان کو ایک نئی جماعت بنانی پڑے گی اور شاید جلد انتخابات بھی کرانے پڑیں۔
واضح رہے کہ چیف پراسیکیوٹر نے پٹیشن دائر کی تھی جس میں الزام عائد کیا ہے کہ اے کے پارٹی سیکولرزم کے مخالفت ہے اور اس جماعت پر پابندی لگانے کی استدعا کی گئی تھی۔
اس پٹیشن میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ اس جماعت کے درجنوں ممبران بشمول وزیر اعظم اور صدر پر پابندی عائد کی جائے۔
ترکی میں استغاثہ کے سینئر وکیل نے اے کے پارٹی کو سکیولر دشمن ہونے کی بنیاد پر اس پر پابندی کا مطالبہ تک کیا ہے۔
سکارف کے حوالے سے حکومت کا مؤقف تھا کہ کالج اور یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی کی وجہ سے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد اعلٰی تعلیم سے محروم ہو رہی تھی۔
تاہم ترکی میں سیکیولر سوچ کی حمایت کرنے والوں کی طرف سے اس پابندی میں نرمی کی بہت مخالفت کی گئی۔