Thursday, 05 June, 2008, 07:57 GMT 12:57 PST
امریکی فوجی عدالت نے سن دو ہزار پانچ میں حدیثہ میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کے مقدمے میں ایک میرین کو حقائق چھپانےکے الزام سے بری کر دیا ہے۔
لیفٹننٹ اینڈریوگریسن پر انصاف کی فراہمی میں حائل ہونے اور غلط بیانی کا الزام تھا جسے وہ رد کر چکے ہیں۔
ان پر ایک سارجنٹ کو اس واقعے کی ڈیجیٹل تصویریں ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی ہدایت دینے کا بھی الزام ہے۔ ابتدئی طور پر اس مقدمے میں چار امریکی افسران اور چار فوجیوں کو ملوث کیا گیا تھا تاہم بعد میں ان میں سے پانچ پر سے الزامات واپس لے لیے گئے تھے جبکہ دو فوجیوں کو ابھی تک کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔
ان امریکی فوجیوں پر قتل جبکہ ان کے افسران پر ان ہلاکتوں کی تفتیش میں ناکامی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت کیلی فورنیا کے ایک فوجی اڈے کیمپ پینڈلٹن میں ہو رہی ہے اور لیفٹننٹ گیسن اس پیشی میں پہلے ملزم تھے۔
امریکی خبر ساں ادارے ایوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ ان کی بریت کے فیصلے کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی فوج نے ابتدا میں کہا تھا کہ نومبر سن دو ہزار پانچ میں حدیثہ میں ہونے والی ہلاکتیں ایک بم دھماکے اور مزاحمت کاروں کے ساتھ ہونے والی فائرنگ کے تبادلے میں پیش آئیں تھیں جبکہ عینی شاہدوں کے مطابق امریکی فوج نے دھماکے کے بعد اشتعال میں آ کر عام شہریوں کو ہلاک کر ڈالا۔ تاہم بعد میں شائع ہونے والی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوجیوں نے ان افراد کو ہلاک کردیا۔
امریکہ نےجنوری سن دو ہزار چھ تک، جب کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک نمائندے نے اس کی ویڈیو جاری نہیں کی، اس واقعے کی سنجیدہ طور پر تحقیقات نہیں کرائی تھیں۔
تاہم بعد میں امریکی ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی رپورٹوں کے مطابق ہلاکتوں کو دنیا سے چھپانے کے الزامات کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ امریکی فوج کے اعلیٰ حکام نے ان غلط بیانیوں اور غلط معلومات کی تفتیش نہیں کی جن کی وجہ سے سوالات ابھر رہے تھے۔