Wednesday, 04 June, 2008, 16:42 GMT 21:42 PST
باراک اوباما نے گزشتہ رات اپنی جماعت کی طرف سے صدارتی نامزدگی میں کامیابی کے دعوے کے بعد اپنی پہلی پالیسی تقریر میں اسرائیل کے لیے غیر متزلزل حمایت کا وعدہ کیا ہے۔
اوباما نے امریکہ اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی ’مقدس‘ ہے اور اس پر ’کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘ یہ کمیٹی یہودیوں کی ایک ممتاز لابی کہلاتی ہے۔
باراک اوباما نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران تک نیوکلیئر ہتھیاروں کی رسائی روکنے کے لیے ’سب کچھ‘ کریں گے۔
گزشتہ رات پرائمری کے آخری انتخاب کے اختتام کے ساتھ ہی امریکہ میں ڈیموکریٹس کی انتخابی مہم ختم ہو گئی ہے جس میں اوباما کو اتنے مندوبین کی حمایت حاصل ہے کہ وہ صدارتی نامزدگی جیت سکتے ہیں۔
تاہم ان کی حریف ہیلری کلنٹن نے ابھی تک اپنی شکست تسلیم نہیں کی۔
یہودیوں کی کمیٹی سے خطاب میں دونوں امیدواروں کا موضوع ایک ہی تھا لیکن بیان مختلف۔ اوباما نے کہا کہ وہ بہ حیثیتِ صدر وہ کیا کیا اقدامات کریں گے جبکہ ہیلری کا کہنا تھا کہ ’آئندہ صدر‘ کیا کیا اقدامات کریں گے۔‘
ہیلری نے کہا کہ ان کی پارٹی کی اسرائیل کی حمایت آئندہ ڈیموکریٹک صدر بھی جاری رکھیں گے۔