Wednesday, 04 June, 2008, 07:10 GMT 12:10 PST
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی طلباء پر غزہ کی پٹی سے باہر پڑھنے کی پابندی پر نظر ثانی کرے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان باہمی ہم آہنگی کی فضا قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
اسرائیلی عدالت کا یہ فیصلہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سات فلسطینی طلباء کو’فل برائٹ سکالر شپ‘ کے اہل قرار دینے کے بعد آیا ہے۔
اسرائیل کی عدالت عظمیٰ نے پیر کے روز اسرائیل کے حقوق انسانی کے ایک گروپ گیشا کی طرف سے دائر ایک کیس یہ فیصلہ سنایا جس میں دو فلسطینی طلباء کی غزہ سے باہر جرمنی اور برطانیہ میں پڑھنے کی درخواست اسرائیلی حکومت کی طرف سے رد کر دی گئی تھی۔
فلسطین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنےوالی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے سفر پر لگائی گئی پابندیاں نرم نہیں کی تو سینکڑوں طلباء بیرون ملک یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دی گئی آخری تاریخ تک نہیں پہنچ پائیں گے۔
عدالت نے اس کیس کو سننے کے بعد اسرائیلی حکومت کو کہا ہے کہ اس پالیسی پر دو ہفتوں کے اندر اندر نظر ثانی کی جائے تاہم اسرائیلی حکومت زبانی طور پر دیے گئے اس بیان پرعمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔
فلسطینی طلباء کو دیے گئے یہ تعلیمی وظائف اسرائیلی حکومت کے ان طلباء کو ملک سے باہرجانے کی اجازت نہ دینے کے بعد واپس لے لیے گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور کچھ اسرائیلی سیاستدانوں نے فلسطینی طلباء پر اس پابندی کو ’اجتماعی سزا‘ قرار دیا ہے۔
ادھر اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک فلسطینی شدت پسند غزہ سے اسرائیلی شہریوں پر راکٹ فائر کرتے رہیں گےاس وقت تک ایسے مریضوں کےعلاوہ جن کی حالت انتہائی نازک ہو، کوئی باہر نہیں جا سکتا۔
اسرائیل نے ایک سال قبل حماس کے برسر اقتدار آنے کے بعد غزہ کا محاصرہ مزید سخت کر دیا تھا جس کے بعد سے یہ علاقہ پوری دنیا سے مکمل طور پر کٹ چکا ہے۔