Saturday, 31 May, 2008, 17:27 GMT 22:27 PST
چین کے صوبے سیچوان کے ایک علاقے میں حالیہ زلزلے کے بعد بننے والی جھیل میں سیلاب کے خطرے کے پیشِ نظر تقریباً دو لاکھ افراد کو وہاں سے اونچی جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میانگ یانگ شہر کے گرد و نواح میں رہنے والے افراد کو وہاں سے منتقل کیا جا رہا ہے اور فوجی زلزلے کی وجہ سے بننے والی اس جھیل میں شگاف ڈال کر پانی کو دوسری طرف بھیجنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
تاہم اس خطرے کا اظہار کیا جا رہا کہ یہ خود ہی بنا ہوا بند کبھی بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نتنجی شن نامی اس جھیل میں پانی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی سطح کسی بھی لمحے اس کے کناروں تک پہنچ سکتی ہے جس کے نتیجے میں پورا علاقہ ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
چین نے ہنگامی بنیادوں پر مزید دس لاکھ افراد کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا بھی منصوبہ بنا رکھا ہے۔ جھیل سے نکلنے والا پانی کم از کم چار گھنٹے میں شہری علاقوں میں پہنچ سکتا ہے۔
چینی فوجی ’کویک لیک‘، کہلائے جانے والے اس تالاب کا دباؤ کم کرنے کے لیے اس میں سے پانی نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارہ مئی کے زلزلے کے بعد مرنے والوں کی تعداد سڑسٹھ ہزار نو سو ستانوے ہوگئی ہے جبکہ سترہ ہزار نو سو چوہتر افراد لاپتہ ہیں۔
سیچوان کے صوبے میں تباہ کن زلزلے کے بعد تودے گرنے سے درجنوں دریاؤں کا بہاؤ بند ہوگیا جس کے نتیجے میں کئی جھیلیں بن گئیں اور ان میں سے کچھ نے پورے کے پورے گاؤں نگل لیے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں تین سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔