Tuesday, 27 May, 2008, 03:06 GMT 08:06 PST
اقوام متحدہ کے جوہری عدم پھیلاؤ کے ادارے آئی اے ای کے سربراہ محمد البرادی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو پورا علاقہ گولہ بن جائےگا اور آئی اے ای اے کا ناممکن ہو جائے گا۔
محمد البرادی نے یہ بیان ان اطلاعات پر دیا ہے کہ اسرائیل نےبظاہر ایران پر حملے کی ریہرسل کی ہے۔ اسرائیلی ہوائی جہازوں نے پندرہ سو کلو میٹر تک پرواز کی۔
اسرائیل اور مقام نطنز کے درمیان تقریباً اتنا ہی فاصلہ ہے جہاں یورینیم کی افزودگی کے کارخانے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اسرائیلی مشقوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ایک ترجمان نے صرف اتنا کہا ہے کہ امریکہ کی توجہ ایران سے سفارت کاری پر ہے لیکن جتنی باتوں کا اختیار انہیں ہے وہ سب ان کے سامنے ہیں۔
اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے خبردار کیا کہ ایران پر حملہ ہوا تو معاملہ کرنے کی ساری کوششوں پر پانی پھر جائے گا۔
ایران کے معاملے پر اسرائیلی حکام کہتے رہے ہیں کہ اگر عالمی برادری نے ایران کو جوہری پروگرام جاری رکھنے سے نہ روکا تو اسرائیل براہ راست اقدام کر سکتا ہے۔
واشنگٹن میں سفارت کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل کی تازہ مشقیں صرف دھونس دینے کے لیے تھیں کیونکہ اسرائیل نے اگر کبھی حملے کی نیت کی تو وہ پہلے سے خبردار تو نہیں کرے گا۔ اسرائیل اس سے پہلے عراق اور شام کے جوہری پروگراموں کو تباہ کر چکا ہے۔