لبنان کی پارلیمنٹ نے صدر کے عہدے پر جو کہ ملک میں کئی ماہ سے جاری سیاسی تعطل کی وجہ سے خالی تھا فوج کے سربراہ جنرل ميشال سليمان کو منتخب کر لیا ہے۔
مغربی ممالک کی حمایت یافتہ حکومت اور حزب اللہ کی قیادت میں قائم حزب اختلاف نے میشال سلیمان کو ایک متفقہ صدر کے طور پر قبول کر لیا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر سلیمان کو حزب اللہ کی حالیہ سیاسی کامیابیوں کی وجہ سے محدود اختیارات ہی حاصل ہوں گے۔
اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد صدر میشال نے ایک نئے دور کے آغاز پر زور دیا اور ملک کو درپیش پپچیدہ ترین مسائل جن میں حزب اللہ کا عسکری کردار بھی شامل ہے ’خاموش مذاکرات‘ شروع کرنے کی بات کی۔
صدر مشیال کا انتخاب گزشتہ ہفتے دوحا میں ہونے والی کانفرنس کے نتیجے میں ممکن ہو سکا۔
گزشتہ اٹھارہ ماہ سے عیسائیوں، سنی مسلمانوں اور دروز ملیشیاء پر مشتمل مخلوط حکومت اور شام کی حمایت یافتہ حزب اللہ کی قیادت میں قائم حزب اختلاف کے درمیان سیاسی تعطل نے ملک کو شدید بحران کا شکار کر دیا تھا۔
فوج کے سربراہ جن کے مقابلے میں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا ایک معتدل اور غیر جاندار شخصیت تصور کیئے جاتے ہیں جنہوں نے اس بحران میں بھی فوج کے غیر جانبدار کردار کو قائم رکھا۔
لبنان کی پارلیمان میں جب سپیکر نبی بیری نے میشال سلیمان کی کل ایک سو ستائیس میں سے ایک سو اٹھارہ ووٹوں سے کامیابی حاصل کرنے
کا اعلان کیا تو ایوان میں زبردستی تالیاں بجائی گئیں۔
![]() |
|
| بیروت میں کئی جگہوں پر خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی گئی |
جنرل سلیمان نے لوگوں سے اپیل کئی کے متحدہ ہو کر حقیقی مفاہمت کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے قوم کے اتحاد کے لیے بھاری قییمت ادا کی ہے اب اس کو مستحکم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔‘
اس تقریر میں صدر میشال سلیمان نے کہا کہ وہ لبنان کے صدر رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات میں اقوام متحدہ سے پوری طور پر تعاون کرنے پر تیار ہیں۔
تاہم انہوں نے شام کے ساتھ بھی قریبی برداران تعلقات قائم رکھنے پر زور دیا۔
مغرب کی حمایت یافتہ سابق مخلوط حکومت نے رفیق حریری کے قتل کا الزام شام پر لگایا تھا اور اس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے پر زور دیا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ صدر میشال کے لیے سب سے زیادہ حساس مسئلہ حزب اللہ کا عسکری کردار ہے۔
بیروت میں موجود بی بی سی کے نامہ نگارر جم میور کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی روکاٹ جو میشال سلیمان کو درپیش ہے وہ قومی وحدت کی حکومت تشکیل دینا ہے جیسا کہ گزشتہ ہفتے قطر میں ہونے والے معاہدے میں طے پایا تھا۔