Saturday, 24 May, 2008, 02:46 GMT 07:46 PST
افغانستان کے حکام کا کہنا ہے کہ مشرقی افغانستان میں ایک خودکش حملے میں ایک بچہ اور چار افغان فوجی ہلاک ہوگئے۔
صوبے خوست میں ہونے والے اس خودکش حملے میں چار فوجی زخمی ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ شہر خوست سے اکیس کلومیٹر دور اس وقت کیا گیا جب فوجی قافلہ خراب سڑک ہونے کے باعث سست رفتاری سے سفر کر رہا تھا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
واضح رہے کے اس سال افغانستان میں تشدد کے واقعات میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر جنگجو تھے۔ طالبان نے سنہ دو ہزار سات میں ایک سو چالیس خودکش حملے کیے تھے۔
افغانستان کے ڈپٹی پولیس چیف عبدل سبور کے مطابق ایک اور واقعہ میں سکول میں ایک راکٹ گرنے سے ایک طالب علم ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان طلبہ کی عمر آٹھ سے چودہ سال تھی۔
دوسری طرف امریکی جنرل کا کہنا ہے کہ افغان سکیورٹی فورس کو اگلے پانچ سال تک کارروائیوں کے ددوران ہوائی جہازوں کی بمباری کی ضرورت ہو گی۔
میجر جنرل رابرٹ کون کا کہنا ہے کہ ہوائی تحفظ کی افغان سکیورٹی فورس کی اس وقت تک ضرورت رہے گی جب تک کہ ان کی اپنی فضائیہ تیار نہ ہو جائے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ افغان فضائیہ دو ہزار تیرہ تک تیار ہو جائے گی۔
جنرل رابرٹ کون نے برسلز میں کہا کہ افغان سکیورٹی فورس کی تعداد ستاون ہزار ہے جب کہ مزید نو ہزار تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سال تک افغان سکیورٹی فورس کی تعداد اسی ہزار ہو جائے گی۔