Tuesday, 20 May, 2008, 07:01 GMT 12:01 PST
غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے مصر کے صدر حسنی مبارک اور اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود مبارک کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔
مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران صدر مبارک نے خبردار کیا کہ غزہ سے چلا ہوا ایک راکٹ اسرائیل کی طرف سے ایک بڑے ردِ عمل کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی طرح کی صلح کے لیے ضروری ہے کہ پکڑے گئے اسرائیلی فوجی جلعاد شاليط کو رہا کیا جائے۔
اس سے قبل حماس کہہ چکی ہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں پکڑے گئے اسرائیلی فوجی کی رہائی کسی امن معاہدے کی شق نہیں بنے گی۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے معاہدے میں فوجی کی رہائی شامل ہونی چاہیے۔
کارپورل شالیط کو دو سال قبل حماس سمیت فلسطینی جنگجوؤں نے سرحد پار کارروائی کے دوران پکڑا تھا۔
دوسری طرف فلسطینی طبی عملے نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں ایک تیرہ سالہ بچہ ہلاک ہو گیا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ ان شدت پسندوں کو ٹارگٹ کر رہا تھا جنہوں نے اسرائیلی قصبے سدرت پر راکٹ حملہ کیا تھا۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ جب اسرائیل نے حملہ کیا تو شدت پسند وہاں سے بھاگ چکے تھے۔
دریں اثناء امریکہ نے فرانس کے حماس کے ساتھ رابطے پر کڑی تنقید کی ہے۔
فرانس کے وزیرِ خارجہ برنارڈ کوچنر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فرانسیسی حکام نے حال ہی میں حماس سے رابطے کیے ہیں۔ حماس کو امریکہ اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
حماس کا ایک وفد مصری حکام سے مذاکرات کے لیے مصر پہنچا گیا ہے۔ یہ وفد مصر کے انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عمر سلیمان سے ملاقات کرنے والا ہے۔
گزشتہ ہفتے حماس نے اسرائیل کے ساتھ چھ ماہ کی جنگ بندی کی پیشکش کی تھی۔
ابھی تک صدر حسنی مبارک کی اسرائیلی وزیرِ دفاع کے ساتھ بات چیت کی کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔