Monday, 19 May, 2008, 04:31 GMT 09:31 PST
فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے امریکہ کے صدد جارج بُش پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی پارلیمان سے اپنے خطاب میں اسرائیل کے حق میں اپنے تعصب کا اظہار کیا تھا۔
محمود عباس نے کہا کہ ’صدر نے جو کہا تھا ہمیں اس پر بہت غُصّہ ہے اور ایمانداری کی بات ہے کہ ہمیں اسے قبول نہیں کرتے‘۔
صدر بُش نے اسرائیل کے قیام کے ساٹھ سال پورے ہونے پر اس کی پارلیمان سے خطاب میں اسرائیل کی زبردست تعریف کی لیکن فلسطینیوں کا بمشکل ہی کوئی ذکر کیا تھا۔
صدر بُش نے مصر میں اتوار کو اپنی تقریر میں کہا تھا عالمِ عرب کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کئی عرب اور مسلمان رہنماؤں سے ملاقات کی اور اپنی عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جنوری میں اپنی صدارت کی مدت ختم ہونے سے پہلے مشرق وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے معاہدہ کروائیں گے۔
صدر بُش نے سنیچر کی رات کو فلسطینی انتظامیہ کے صدر سے کھانے پر ملاقات کی تھی۔ ان دونوں کے کھانے سے پہلے کے بیان سے ایسا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ صدر عباس صدر بُش کے بیان سے نالاں ہیں۔ بلکہ محمود عباس نے ان لوگوں کے خلاف صدر بُش کا دفاع کیا جو جنوری سے پہلے امن معاہدے کا ان کا وعدہ پورا ہونے کے امکان پر شک کرتے ہیں۔
لیکن اتوار کو محمود عباس نے کہا کہ انہوں نے صدر بُش سے ان کے بیان پر وضاحت طلب کی ہے۔ صدر بُش نے اسرائیلی سیاستدانوں سے کہا تھا کہ امریکہ ان کا سب سے قریبی اتحادی ہے اور ان کا ملک ’پسندیدہ لوگوں کا گھر ہے‘۔
رام اللہ میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول نے کہا کہ بہت کم فلسطینی صدر بُش پر اعتبار کرتے ہیں اور ان کے مشرق وسطیٰ کے حالیہ دورے کے دوران یہ رائے مزید مضبوط ہوئی ہے۔