Saturday, 17 May, 2008, 09:18 GMT 14:18 PST
چین کے زلزلہ سے متاثرہ شہر بیچوان میں قریب کے ایک دریا کا کنارہ کٹنے کے بعد سیلاب کی افواہ کی وجہ سے سنیچر کو بڑے پیمانے پر افراتفری اور بھگدڑ کا ماحول پیدا ہوگیا۔
بیچوان میں بی بی سی کے نامہ نگار پال ڈنہر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اطلاعات کے بعد کہ سیلاب پورے شہر میں پھیل جائے گا، ہر طرف بھگدڑ مچ گئی اور لوگ اونچی جگہوں کی جانب دوڑنے لگے۔
’ہر شخص بھاگ رہا تھا، امدادی کارکن، مقامی باشندے، طبی عملے کے ارکان، مدد پہنچانے والے فوجی۔ اور اس بھگدڑ میں بہت لوگ پیچھے رہ گئے۔‘
’ہم لوگ ایک شخص کی فلم بنا رہے تھے جس کو ملبے کے اندر سے نکالا جا رہا تھا، لیکن سیلاب کی خبر ملتے ہی امدادی ٹیمیں اسے وہیں چھوڑ کر بھاگنے لگے۔‘
بیچوان گزشتہ پیر کو آنے والے زلزلے کے مرکز سے قریب ہی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ زلزلے سے لگ بھگ پچاس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم سنیچر کو چینی حکام نے زلزلے سے ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد لگ بھگ انتیس ہزار بتائی ہے۔ زلزلے کے متاثرین کی تعداد لگ بھگ پچاس لاکھ بتائی گئی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار اب واپس بیچوان میں آچکے ہیں۔ چینی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دریا کا کنارہ پھٹ گیا تھا لیکن اب شہر کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پھر بھی بہت لوگ اونچی پہاڑیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔
پال ڈنہر کا کہنا ہے کہ سیلاب کی اطلاع ملتے ہی جو لوگوں کا ردعمل تھا اس پر تعجب کی بات نہیں کیونکہ زلزلے کی وجہ سے یہاں کے تمام لوگ خوفزدہ اور سہمے ہوئے ہیں اور زلزلے سے متاثرہ عمارتیں جیسے بکھرنے کو ہیں۔
چینی اہلکار ملبے کے اندر سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سنیچر کے روز بھی بیچوان شہر میں تینتیس افراد کو
ملبوں کے اندر سے نکالا گیا ہے۔ ایک باون سالہ شخص کو 117 گھنٹوں کے بعد ملبے کے اندر سے نکالا گیا جبکہ وینچوان شہر میں ایک جرمن
سیاح کو 114 گھنٹوں کے بعد ملبے کے اندر سے نکالا گیا ہے۔