http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 15 May, 2008, 06:23 GMT 11:23 PST

اوباما کی حمایت کا اعلان

امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سابق صدارتی امیدوار جان ایڈورڈ نے ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے خواہشمند سینیٹر باراک اوبامہ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی ریاست مشیگن میں سینیٹر اوباما کے ساتھ ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جان ایڈورڈ نے کہا کہ سینیٹر اوباما وہ واحد آدمی ہیں جو امریکہ میں دائمی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

جان ایڈورڈ اس سال جنوری میں صدارتی امیدوار کی دوڑ سے دستبردار ہو گئے ہیں۔

نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ جان ایڈورڈ کی طرف سے باراک اوباما کی حمایت کے اعلان سے ہیلری کلنٹن کو ورجینا میں اپنی فتح کے باوجود شدید نقصان پہنچے گا۔

گرینڈ ریپڈز مشیگن میں ایک انتخابی اجتماع میں جان ایڈورڈ نے کہا کہ امریکہ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے ووٹروں نے ان کی طرح اپنا ذہن بنا لیا ہے۔
کلنٹن نے مغربی ورجینہ میں فتح حاصل کی ہے

انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ایک شخص ہے جو امریکہ کو جرات مندانہ قیادت فراہم کر سکتے ہیں، ایک شخص ہے جو ایک امریکہ بنا سکتا ہے اور وہ ہے باراک اوباما۔‘

جان ایڈورڈ نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور صحت عامہ کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر اوباما نے غربت کے خاتمے کے لیے ان کے منصوبے کی حمایت کی تھی جس کے تحت امریکہ میں اگلے دس سالوں میں غربت کی شرح میں نصف کمی کی جانی تھی۔

اس سے قبل انہوں نے ہیلری کلنٹن کی ثابت قدمی، مستقل مزاجی اور جرات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکہ کے محنت کشوں کا بہت خیال ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جان ایڈورڈ کی طرف سے باراک اوباما کی حمایت کا اعلان ایک انتہائی اہم موقع پر کیا گیا ہے جب ہیلری کلنٹن مغربی ورجینہ میں اپنی فتح کی خوشی منا رہی تھیں۔

باراک اوباما اور ہیلری کلنٹن کے ووٹ
 امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے اعدادوشمار کے مطابق باراک اوباما کو ایک ہزار آٹھ سو ستاسی مندوبین کی حمایت حاصل ہے جبکہ ہیلری کلنٹن کو ایک ہزار سات سو اٹھارہ مندوبین ننے ووٹ دیئے ہیں۔ اس طرح ڈیموکریٹ پارٹی کے کل دو ہزار چھبیس مندوبین میں سے ایک سو انتالیس باقی رہ گئے ہیں جنہوں نےاپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہے۔
 

ہیلری کلنٹن اور باراک اوباما دونوں ہی جان ایڈورڈ کی صدارتی دوڑ سے دستبرداری کے بعد سے ان کی حمایت حاصل کرنے پر انحصار کر رہے تھے۔

ہیلری کلنٹن کی مہم کے منتظمین نے اس جان ایڈورڈ کی طرف سے باراک اوباما کی حمایت کرنے کے اعلان کو غیر اہم قرار دیا۔

ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے انچارج نے کہا ’ہم جان ایڈورڈ کا احترام کرتے ہیں، لیکن جس طرح مغربی ورجینا کے ووٹروں نے ثابت کیا ہے یہ دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔‘

ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کے لیے جاری دوڑ میں باراک اوباما کو ہیلری کلنٹن کو پارٹی کے مندوبین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ ان مندوبین نے اس سال اگست میں ڈیمورکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار کا انتخاب کرنا ہے۔

باارک اوباما نے ہیلری کلنٹن کےمقابلے میں صدارتی امیدوار کی انتخابی مہم کے لیے زیادہ چندہ اکھٹا کیا ہے۔

ہیلری کلنٹن کو امید ہے کہ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کے کنونشن میں وہ ’سپر ڈیلیگٹ‘ کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ سپر ڈیلیگٹ پارٹی کہ وہ سنیئر رکن ہوتے ہیں جنہیں پارٹی کنونشن میں خصوصی طور پر اپنی رائے کے اظہار کا حق دیا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ جان ایڈورڈ جیسے ڈیموکریٹ پارٹی کے سرکردہ رکن کی طرف سے باراک اوباما کی حمایت کے بعد سینیٹر ہیلری کلنٹن کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے اعدادوشمار کے مطابق باراک اوباما کو ایک ہزار آٹھ سو ستاسی مندوبین کی حمایت حاصل ہے جبکہ ہیلری کلنٹن کو ایک ہزار سات سو اٹھارہ مندوبین ننے ووٹ دیئے ہیں۔ اس طرح ڈیموکریٹ پارٹی کے کل دو ہزار چھبیس مندوبین میں سے ایک سو انتالیس باقی رہ گئے ہیں جنہوں نےاپنے ووٹ کا استعمال کرنا ہے۔