Thursday, 15 May, 2008, 10:41 GMT 15:41 PST
چینی حکام نےخدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبہ سیچوان میں پیر کے روز آنے والے شدید زلزلے میں پچاس ہزار لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔
چینی حکام نےانیس ہزار پانچ سو لوگوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اب بھی ہزاروں لوگ ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں کو توقیت دینے کے لیے علاقے میں مزید تیس ہزار مزید فوج بھیجی جا رہی ہے۔
سچوان صوبے میں آنے والے زلزلے سے دس ملین لوگ متاثر ہو ئے ہیں۔چین کے حکام نے کہا ہے کہ تیس ہزار اضافی فوج علاقے میں بھیج رہا ہے۔ چین نے کہا ہے کہ زلزلہ سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے عالمی امداد کی خوش آمدید کہےگا۔ چین نے تائیوان اور جاپان سے امدادی ٹیموں کی آمد پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔
چینی حکومت نے زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے اور ابتدا میں پچاس ہزار فوجی تباہ حال علاقے میں
امدادی کارروائیوں کے لیے بھیجے ہیں۔ چینی حکومت اب مزید تیس ہزار فوج علاقے میں بھیج رہا ہے۔
![]() |
|
| اب بھی ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں |
سرکاری افسر ہی بیو کا کہنا تھا کہ’ وہ ملبے تلے لوگوں کی مدد کے لیے چیخ و پکار سنتے رہے لیکن کچھ کر نہ سکے کیونکہ علاقے میں کوئی ماہر امدادی ٹیم نہیں پہنچ سکی تھی‘۔
خبر رساں ادارے ژن ہوا کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلے کے مرکز کے نزدیک واقع ایک اور شہر میانیانگ میں اندازاً اٹھارہ ہزار افراد ملبے تلے دفن ہیں جبکہ ایک اور قصبےمیانز ہو میں کم از کم چار ہزار آٹھ سو افراد پھنسے ہوئے ہیں اور زلزلے کے نتیجے میں گرنے والے مٹی کے تودوں نے قصبے تک پہنچنے کے تمام راستے مسدود کر دیے ہیں۔
بی بی سی کے کوئنٹن سمروِل کا کہنا ہے کہ چینی فوج تیز رفتاری سے حرکت میں آنے کے حوالے سے کافی اچھا ریکارڈ رکھتی ہے اور اس لیے
وہ جلد امدادی کاموں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ
چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہا ہے۔