Wednesday, 14 May, 2008, 09:47 GMT 14:47 PST
لبنان میں مغربی ملکوں کی حمایت یافتہ حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جاری مسلح کشمکش سے پیدا ہونے والے بحران کو حل کرانے کے لیے آٹھ عرب ملکوں کے وزراء خارجہ لبنان پہنچ رہے ہیں۔
عرب ملکوں کے وزراء خارجہ پر مشتمل یہ وفد بیروت میں حکومت کے حامیوں اور حزب اللہ ملیشیا سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔
دریں اثناء لبنانی فوج نے کہا ہے کہ وہ متحرب گروپوں کو غیر مسلح کرنے اور ملک میں امن قائم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گزشتہ ہفتے حزب اللہ نے جسے مبینہ طور پر شام اور ایران کی مدد حاصل ہے بیروت کے مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اس کا کنٹرول فوج کے حوالے کر دیا۔
حزب اللہ اور حکومت کے حامیوں کے درمیان چھ روزہ لڑائی میں اسی افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سعودی حکومت نے ایران کو لبنان میں حزب اللہ کی مدد کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اس رویے کی وجہ
سے اس کے عرب ملکوں سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
![]() |
|
| شہر کی سڑکوں پر روکاوٹیں کھڑی ہیں |
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بیروت شہر میں سڑکوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے زندگی معطل ہے اور بیروت کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ بند ہے۔
حالیہ فرقہ وارانہ تشدد کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ملک ایک بار پھر خانہ جنگی کی نذر نہ ہو جائے۔بیروت پندرہ سال تک اس خانہ جنگی کی زد میں رہا ہے جو انیس سو نوے میں ختم ہوئی تھی۔
فوج کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی فرد اور کسی گروہ کی طرف سے قانون کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کو روکنے کے لیے اگر قوت کا استعمال بھی کرنا پڑا تو کرنے سے گریز نہیں کیا جائےگا۔
سعودی عرب نے جو کہ لبنان کی حکومت کا ایک بڑا حامی ہے مشرق وسطیٰ کے ملکوں سے کہا ہے کہ وہ لبنان کی آزادی اور خومختاری کا احترام
کریں۔
![]() |
|
تہران میں ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔
حالیہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب حکومت نے حزب اللہ کے ٹیلی فون کے نیٹ ورک کو بند کر دیا اور بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر تعینات سکیورٹی کے سربراہ کو حزب اللہ سے ہمدری رکھنے پر برطرف کر دیا۔
اس لڑائی میں فوج مکمل طور پر غیر جانبدار رہی جس کی وجہ سے وہ ملک میں مکمل انتشار کو سے بچانے میں ایک اہم عنصر ثابت ہوئی ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ کمانڈر جنرل مشل سلیمان ملک کے آئندہ صدر ہوں گے۔
امریکی صدر بش نے کہا کہ وہ خطے کے اپنے حالیہ دورے کے دوران اس مسئلہ پر بات کریں گے۔
بی بی سی سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے لبنان کی فوج کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا امریکہ گائیڈڈ میزائیل سے لیس بحری جہاز یو ایس ایس کول کو مشرقی بحیرہ روم بھیج رہے ہیں۔