Tuesday, 13 May, 2008, 12:39 GMT 17:39 PST
چین کے جنوب مغربی حصہ میں سات اعشاریہ آٹھ کی شدت سے آنے والے زلزلے کے بعد وسیع پیمانے پر امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا
گیا ہے جبکہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس زلزلے میں بارہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
سیچوان صوبے کے دیگر علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو نکالنے کی سرتوڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ زلزلے کی تباہ کاریوں کو دیکھتے ہوئے اس بات خدشہ ظاہر کیا جا رہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
چینی وزیر اعظم وین جایا باو زلزلہ زدہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے امدادی کارکنوں سے کام کی رفتار تیز کرنے کو کہا ہے۔
زلزلے کے مرکز کے جنوب مشرق میں واقع دوجیناگ شہر میں مقامی شہریوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا جب تک ملبے تلے دبے ہوئے کسی
ایک بھی فرد کو بچانے کی امید باقی ہے وہ سر توڑ کوششیں جاری رکھیں گے۔
![]() |
|
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنوا کے مطابق صوبے سیچوان کے ساتھ مواصلاتی نظام کٹ گیا ہے۔ چین کے صدر ہو جینتاؤ نے حکم دیا ہے کہ متاثر افراد کی مدد کے لیے تمام تر کوششیں کی جائیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بیچوان کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں پر اسی فیصد عمارتیں منہدم ہو گئی ہیں اور ان میں تین سے پانچ ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے اور تقریباً دس ہزار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
امریکی محکمہ ارضیات نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ زلزلے کا مرکز سیچوان صوبے کے شہر چینگڈو سے بانوے کلو میٹر دور شمال مغرب میں تھا۔ اس صوبے کی آبادی تقریباً دس ملین ہے۔ زلزلےکے بعد علاقے میں ٹیلی فون کا نظام ٹھپ ہو گیا ہے۔
چینگڈو کی عمارتوں میں شگاف پڑ گئے اور پانی کے پائپ پھٹ گئے اور علاقے کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔
ژِنہوا کے مطابق زلزلے کے چوالیس جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں۔
|
|
انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں سے خبریں بہت تیزی سے آ رہی ہیں اور یہ پہلی بار ہے کہ چینی سرکاری میڈیا اتنی تندہی سے کام کر رہی ہے۔