Wednesday, 07 May, 2008, 10:24 GMT 15:24 PST
بیالیس سالہ دمتری میدوی ایدف سوویت یونین کے خاتمے کے بعد روس کے تیسرے صدر بن گئے ہیں۔ نئے صدر کے تقرر کی تقریب کریملن محل میں ہوئی جس میں چوبیس سو لوگوں نے شرکت کی۔
میدوی ایدف مارچ میں ہونے والے انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب ہوئے تھے۔ اس تقریب سے میدوی ایدف کے گمنامی سے باہر آنے کا عمل مکمل ہو گیا۔
صدر پوتن نے نئے صدر کے تقرر کو روس کے لیے ’انتہائی اہم مرحلہ‘ قرار دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے صدر میدوی ایدف سے اصرار کیا کہ وہ ان کی پالیسیوں کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ’درست پالیسیاں‘ تھیں۔
صدر میدوی ایدف نے ’بہتر‘ روس کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے سابق صدر کی حمایت کا شکریہ ادا کیا اورامیدظاہر کی کہ یہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روس کے نئے صدر کے تقرر کی شاندار تقریب گیس اور معدنی تیل کی دولت سے مالا مال روس کی نئی خود اعتمادی کا مظہر ہے۔
صدر میدوی ایدف لبرل اقتصادی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں اور سابق صدر پوتن کے نائب وزیر اعظم کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ وہ روس کی ریاست کی ملکیت تیل اور گیس کی کمپنی گیزپروم کے سربراہ بھی رہے ہیں۔
ماسکو میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز راجرز نے کہا کہ یہ سوال لوگوں کو پریشان کرتا رہے گا اور الجھائے رکھے گا کہ کریملن میں اصل اختیار کس کے پاس ہے۔
کریملن میں منحرفین کے لیے عدم برداشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ منگل کو پولیس نے ’دی ادر رشیا‘ نامی تنظیم کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا جن کے بارے میں خیال تھا کہ نئے صدر کے تقرر کے موقع پر مظاہرہ کریں گے۔ اس تنظیم کی قیادت شطرنج کے سابق عالمی چیمپیئن گیری کیسپروو کر رہے ہیں۔