Tuesday, 06 May, 2008, 01:54 GMT 06:54 PST
فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی نے بتایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اب اتنا تیل مل گیا ہے کہ وہ امدادی کام بیس دن تک جاری رکھ سکتی ہے۔
ایجنسی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ اگر پیر کا دن ختم ہونے سے پہلے اسرائیل نے ایندھن کی ترسیل بحال نہ کی تو ایک بار پھر یہ نوبت آجائے گی کہ غزہ میں خوراک کی تقسیم بند کردی جاۓ۔
ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ اقوام متحدہ کو بالکل دہانے پر پہنچ کے واپسی کا موقعہ دیا گیا ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ اسے دہانے تک جانے پر مجبور کیوں کیا گیا تھا۔
اس سے قبل ایجنسی کے ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایندھن کی ترسیل بحال نہ ہوئی تو چھ لاکھ پچاس ہزار افراد کو امدادی سپلائی معطل ہو جائے گی۔
ایندھن کی ترسیل اس وقت معطل ہوگئی تھی جب اسرائیل نے ایک علاقے میں مارٹر حملوں کے بعد دو بڑی گزرگاہوں کو بند کر دیا تھا۔
جب سے شدت پسند گروپ حماس نے غزہ میں اقتدار سنبھالا ہے تب سے اسرائیل نے اس علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے۔
نحل ٹرمینل اور کارنی کراسنگ کو جہاں سے غزہ میں ایندھن، امدادی اشیا اور خوراک کی سب سے زیادہ فراہمی ہوتی ہے اتوار کو مارٹر حملے کے بعد بند کر دی گئی تھی۔
اسرائیل نے کہا تھا کہ حماس ان جگہوں کو ارادتاً نشانہ بنا رہی ہے۔