Tuesday, 06 May, 2008, 03:01 GMT 08:01 PST
مصر کی پارلیمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں جو اضافے کیے گۓ ہیں ان کو پورا کرنے کے لیے تیل کی قیمت بڑھا دی جائے۔
پچھلے مہینے غذائی قلت سے متعلق بلوے میں تین افراد کی ہلاکت کے بعد صدر حسنی مبارک نے گزشتہ ہفتے تنخواہیں بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عام لوگ مہنگائی سے نمٹ سکیں۔
شام نے بھی حال میں سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں خاصے بڑے اضافے کا اعلان کیا ہے۔
ادھر اردن کے وزیر زراعت نے کہا ہے کہ عرب ممالک یہ غور کررہے ہیں کہ خوراک کی مہنگائی کے توڑ کے لیے ایک ہنگامی فنڈ قائم کیا جائے۔
مصر میں لبرل اور بائیں بازو کے سیاسی سرگرموں نے اتوار کو خوردنی اشیاء کی مہنگائی کے خلاف عام ہڑتال اور احتجاج کیا تھا۔
گزشتہ ماہ ہڑتال کی ایسی کوششیں لوگوں کی خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں کر سکی تھیں۔
صدر حسنی مبارک نے حال ہی میں سرکاری شعبے کے ملازین کی تنخواہوں میں تیس فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے تا کہ وہ معاشی مسائل کے باعث پیدا ہونے والی ناپسندیدگی کا حصہ نہ بنیں۔
تاہم احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شہریوں کی خاطر خواہ مدد نہیں کر رہی۔