Sunday, 04 May, 2008, 09:21 GMT 14:21 PST
مغرب کی حمایت یافتہ لبنانی حکومت نےشیعہ ریڈیکل تنظیم حزب اللہ پر دہشت گردی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بیروت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خفیہ کیمرہ نصب کرکے ایئرپورٹ اور طیاروں کی فلمسازی کی۔
حزب اللہ نے خفیہ طور پر بیروت ایئیرپورٹ کی فلم بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ الزامات کا مقصد خوف پھیلانا ہے۔ لبنان میں پچھلے آٹھ سالوں سےایک سیاسی بحران جاری ہے اور ملک میں کوئی صدر بھی نہیں ہے۔
لبنانی حکومت نے الزام لگایا ہے کہ حزب اللہ نے بیروت ایئرپورٹ پر خفیہ کیمرے نصب کیے تاکہ وہ ایئرپورٹ پر نظر رکھ سکے۔ حکومت کے مطابق شاید حزب اللہ دہشگردی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہی تھی۔
لبنانی حکومت کے ایک حامی اخبار نہار نے ایسی دستاویزات شائع کی ہیں جن کے تحت لبنانی فوج کے خفیہ شعبے نے تصدیق کی ہے کہ بیروت ایئرپورٹ پر ایک ایسا خفیہ کیمرہ کا پتہ چلایا ہے جس سے پورے ایئرپورٹ پر نظر رکھی جاسکتی تھی۔
رپورٹ کے مطابق عام کپڑوں میں ملبوس تین لوگ کیمرے کو اتار کر لےگئے اور وہ لبنانی حکومت کی تحویل میں نہیں آسکا۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ الزامات لبنان کے سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے عرب لیگ کی کوششوں کو روکنے کی کوشش ہیں۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ لبنان کے سیاسی بحران کو حل کرانے کے لیے جلد بیروت پہنچ رہے ہیں۔