Friday, 02 May, 2008, 12:04 GMT 17:04 PST
مشرقِ وسطی امن عمل میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے کوارٹٹ، چوگانہ نے عرب ملکوں سے فلسطین کے امداد کے وعدے پورے کرنے کی اپیل کی ہے۔
یہ اپیل لندن میں چوگانہ، اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور روس کے مذاکرات کے بعد جاری کی گئی ہے۔
اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ عرب اقوام نے اپنے وعدوں کے برخلاف گزشتہ دسمبر تک صرف پانچواں حصہ امداد فراہم کی۔
چوگانہ نے تشدد کے حالیہ واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ نوآبادیاتی سرگرمیاں بند کرنے اور فلسطین کو تشدد پر قابو پانے کے لیے کہا ہے۔
گروپ نے اس ضمن میں ’دونوں جانب سے کیے جانے والے ٹھوس اقدام‘ کا خیر مقدم کیا ہے، جن میں اسرائیل کی جانب سے سڑکوں پر رکاوٹوں کا ختم کرنا اور فلسطین کی جانب سے سیکیورٹی میں بہتری شامل ہیں۔ تاہم اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ ’ابھی مزید بہت کچھ ہونا باقی ہے‘۔
اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھی کہا تھا کہ عرب ممالک کو فلسطینیوں کی مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی لینی چاہیے۔
امریکی وزیرخارجہ نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ عرب ملکوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ وہ فلسطین کی زیادہ سے زیادہ مدد کیسے کر سکتے ہیں، کم سے کم نہیں۔
کونڈولیزا رائس مشرقِ وسطیٰ پر مذاکرات میں شرکت کے لیے لندن پہنچی تھیں۔ انہوں نے عرب ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
کونڈولیزا رائس برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کے علاوہ ایران کے مسئلے پر بھی مذاکرات کریں گی۔ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتیں امداد کرنے کا وعدہ کرتی ہیں تو انہیں اپنے وعدے پورے بھی کرنے چاہئیں۔
’جن ممالک کے پاس وسائل ہیں، انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ وہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مدد کرسکتے ہیں، کم سے کم نہیں۔‘
|
صرف تین عرب ملکوں نے مدد دی
|
گزشتہ سال فلسطین کے لیے دنیا بھر سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد کے وعدے کیے گئے تھے جن میں سے عرب لیگ کے ارکان نے سات سو سترہ ملین ڈالر کی امداد کی پیش کش کی تھی۔ لیکن صرف ایک سو ترپن ملین ڈالر ہی فراہم کیے گئے ہیں اور وہ بھی ان تین ملکوں کی جانب سے۔