Friday, 25 April, 2008, 12:07 GMT 17:07 PST
اقوام متحدہ کے ایٹمی معاملات کے ادارے نے کہا ہے کہ وہ امریکہ کے اس دعوے کا جائزہ لے گا کہ شام مبینہ طور پر شمالی کوریا کی
مدد سے ایٹمی ری ایکٹر بنا رہا تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام کا مبینہ ری ایکٹر پر امن مقاصد کے لیے نہیں تھا۔ اس سے پہلے
سی آئی اے کے حکام نے امریکی ایوان نمائندگان کانگریس
کے ارکان کو اس معاملے پر معلومات فراہم کی تھیں۔
شام نے امریکہ کے دعووں کو ’احمکانہ‘ قرار دیا ہے اور اپنے ری ایکٹر کے تعمیر میں شمالی کوریا کے کردار کی تردید کی ہے۔
سن دو ہزار سات میں اسرائیل نے اس جگہ پر بمباری کی تھی جہاں مبینہ طور پر یہ ری ایکٹر بنایا جا رہا تھا۔
سی آئی اے کے اہلکاروں کی طرف سے کانگریس کو دی گئی بریفنگ کے بعد، وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ شام کو اپنے ’خفیہ ایٹمی پروگرام‘ کے بارے میں حقائق واضح کرنا چاہئیں۔
سی آئی اے کی اس بریفنگ میں ایسی تصاویر بھی دکھائی گئیں جن میں بقول سی ائی اے شمالی کوریا اورشام کے ایٹمی اداروں کے سربراہان اکھٹے کھڑے ہیں۔
لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار سات میں اسرائیل کی طرف سے شام کے اس ری ایکٹر پر حملے کے بعد شام کی طرف سے کی جانے والی ’کلین اپ‘ کارروائی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لیے نہیں تھا۔
امریکی وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چھ ستمبر دو ہزار سات سے پہلے تک شام اپنے مشرقی صحرا میں ایک ایسے خفیہ پروگرام پر کام کر رہا تھا جس سے پلوٹونئیم پیدا کی جاسکتی ہے۔ اب شام کو دنیا کے سامنے اپنے اس غیر قانونی پروگرام کے بارے میں اعتراف کرنا چاہئیے۔‘
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کی یہ بریفنگ ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا کے ساتھ جاری مذاکرات میں بظاہر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔