Friday, 25 April, 2008, 02:37 GMT 07:37 PST
مسلح فلسطینی گروپ حماس نے غزہ کی پٹی میں چھ ماہ کے لئے جنگ بندی کی پیشکش کی ہے۔ گروپ کے مطابق اس جنگ بندی کو بعد میں غرب اردن میں بھی لاگو کیا جاسکتا ہے۔
فلسطین کے سابق وزیر خارجہ محمود ظاہر نے کہا ہے کہ یہ جنگ بندی دو طرفہ ہونی چاہئیے اور اسرائیل کو غزہ کی ناکہ بندی کو ختم کرنا ہوگا۔
مسٹر ظاہر نے یہ تجویز مصری مذاکرات کاروں کو پیش کی ہے جو اسے اسرائیلی حکام تک پہنچائیں گے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں ہیں۔
حماس نے اس مجوزہ جنگ بندی کو ’خاموشی کا دور‘ قرار دیا ہے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ کے ساتھ اپنی سرحدوں پر اس ’خاموشی‘ کے لئے تیار ہے لیکن حماس کو اسرائیلی علاقوں میں راکٹ حملے اور اسلحے کی سمگلنگ بند کرنا ہوگی۔
حماس کے رہنما مسٹر ظاہر نے یہ تجویز مصر کے اینٹیلی جینس کے سربراہ عمر سلیمان سے قاہراہ میں ملاقات کے بعد دی۔ مسٹر سلیمان حماس اور اسرائیل کے درمیان رابطے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔
حماس نے پہلے کہا تھا کہ غزہ اور غرب اردن دونوں میں بیک وقت جنگ بندی کی جائے۔
غزہ پچھلے کچھ ہفتوں سے اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اسرائیل حماس کے ممبران کے ٹھکانوں پر حملے کررہا ہے جبکہ حماس اسرائیل کے علاقوں میں راکٹ حملے کررہا ہے۔ حماس کی طرف سے غزہ کی پٹی پر قبضے کے بعد سے اسرائیل نے اس مکمل طور پر سیل کردیا ہے۔