http://bbc.com.im/urdu/

جارن میڈسلین
بزنس رپورٹر، بی بی سی

سستے ملبوسات کا دور خاتمے کے قریب

فصل مہنگی ہوئی تو غذائی اجناس کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ اور اب ماہرین کے مطابق سستے کپڑوں کا دور بھی ختم ہونے والا ہے۔

سلے سلائے کپڑوں کی مانگ میں کمی آرہی ہے کیونکہ مالی بحران کے پیش نظر امریکہ اور یورپ میں لوگ کفاعت شعاری سے کام لے رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکہ میں کاٹن کی کھپت گزشتہ برس کے مقابلے میں ساڑھے چھ فیصد کم ہوکر دس لاکھ ٹن سے کم رہ جائے گی جبکہ یورپ میں یہ کمی گیارہ فیصد ہوگی۔

ساتھ ہی ملبوسات تیار کرنے والی کمپنیوں کو دو دوسرے بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ایک تو کپڑے تیار کرنے میں استعمال ہونے والا سامان مہنگا ہو رہا ہے اور دوسرے تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے فیکٹریاں چلانا بھی مہنگا ہوگیا ہے اور تیار مال غیر ملکی منڈیوں تک پہنچانا بھی۔

ہندوستان میں بینکروں کو مشکلات کا سامنا ہے تو چین میں ٹیکسٹائل صنعت کو۔ لیکن مسئلہ کی جڑ ان ملکوں میں نہیں بلکہ امریکہ میں ہے۔

امریکی مارکیٹ
امریکہ میں ایسے کسانوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو کپاس کی کھیتی چھوڑ کر زیادہ منافع بخش فصلیں اگا رہے ہیں۔ جیسے سویابین اور گندم۔ ان فصلوں کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ جیسے حکومت کی جانب سے کسانوں کو دی جانے والی سبسڈی یا مالی اعانت، بائیو فیوئل (فصلوں سے تیار کیے جانے والے ایندھن) بنانے والوں کی طرف سے زیادہ مانگ اور بازار میں سٹے بازی کا رحجان۔

مہنگا کاٹن
کاٹن کی کاشت سے متعلق بین الاقوامی ادارے ’انٹرنیشنل کاٹن ایڈوائزری کمیٹی‘ کا کہنا ہے کہ کاشت کاروں کے بدلتے ہوئے رحجان کی وجہ سے صورتحال بہت بگڑنے والی ہے اور کپاس کی کاشت آئندہ برس مزید پندرہ فیصد کم ہو جائے گی۔ ظاہر ہے کہ پیداوار جتنی کم ہوگی، قیمت اتنی ہی بڑھے گی۔ تخمیوں کے مطابق امسال کاٹن کی قیمت میں آٹھ فیصد اضافہ ہوگا۔

سوئس فنانشیل سروس سے وابستہ مائک سٹیونز کہتے ہیں کہ بازار میں اتنی ہلچل پہلے کبھی نہیں تھی اور یہ صورتحال کئی برسوں تک رہ سکتی ہے۔

کاٹن کی کمی سب سے پہلے گزشتہ برس محسوس کی گئی تھی جب مانگ سپلائی سے تقریباً ایک لاکھ ٹن زیادہ تھی۔
چینی فیکٹریاں مشکلات کا شکار ہیں

لیکن امریکہ کے بر عکس چین، ہندوستان، آسٹریلیا، برازیل اور مغربی افریقہ میں کاٹن کی پیداوار بڑھ رہی ہے۔ لہذا عالمی سطح پر سپلائی میں اضافہ مانگ میں اضافے سے زیادہ ہے۔

لیکن سپلائی میں اضافے کی رفتار اتنی تیز نہیں جتنی ہونی چاہیے۔ آئی سی اے سی کے مطابق اس برس مانگ ساڑھے ستائیس لاکھ ٹن ہوگی جبکہ سپلائی ستائیس لاکھ ٹن سے کچھ کم۔

لیکن مہنگی کاٹن صرف ایک مسئلہ ہے۔ ایک بڑا مسئلہ توانائی کی کمی بھی ہے۔

لہذا اب سوال یہ ہےکہ کیا ایسی فصلیں اگائی جانی چاہئیں جن سے غذا حاصل ہو یا پھر کاٹن۔ اور یہ بھی کہ کپڑے بنانے کے لیے کتنی توانائی استعمال کی جانی چاہیے۔

فیکٹری مالکان کے لیے قرضے حاصل کرنا مشکل ہورہا ہے اور ہندوستان، چین، جنوب مشرقی اور وسطی ایشیا مشکلات میں گھرنا شروع ہوگئے ہیں۔

لہذا انہیں یا تو قیمتیں بڑھانی ہوں گی یا کاروبار بند کرنا ہوگا جس سے سپلائی کم ہو جائے گی۔ یورپ اور امریکہ میں صارفین پر اس کا اثر واضح ہے: وہ آنے والے وقت میں کپڑوں کے لیے زیادہ پیسہ خرچ کرنے کے لیے تیار رہیں۔