Tuesday, 22 April, 2008, 14:49 GMT 19:49 PST
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرم برائے خوراک کے سربراہ نے کہا ہے کہ خوراک کی پیداوار میں اضافے اور غریبوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
جوزیٹ شیران نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ عالمی پروگرام برائے خوراک اب ان ان دس کروڑ لوگوں کی بھی خوراک کے معاملے میں مدد فراہم کر رہا ہے جن کو چھ ماہ پہلے اس کی ضرورت نہیں تھی۔
انہوں نے یہ تنبیہ اس وقت کی ہے جب لندن میں خوراک کی قیمتوں اور یورپی یونین کی بائیوفیول کےحق میں پالیسی کےبارے میں ایک اجلاس ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی اہلکار نے کہا ہے کہ لوگوں کو بحرانی کیفیت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس کروڑ ایسے لوگ ہیں جنہیں چھ ماہ قبل خوراک کی ضرورت نہیں تھی اب وہ اپنےخاندان کےلیےخوراک نہیں حاصل کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ایشیا میں چاول کی قیمت تین مارچ کو چار سو ساٹھ ڈالر فی ٹن تھی جو سات ہفتے بعد ایک ہزار ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں چاول، گندم اور مکئی کی قیمتیں ایک سال میں دوگنی ہوئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں عالمی برادری کو وسیع پیمانے پر اعلیٰ سطحی کارروائی کی ضرورت ہے جو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے میں مددگار اور دیرپا بھی ہو۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ برائے خوراک کو فوری طور پر امداد کی ضرورت ہے ہے کیونکہ اس کے بجٹ میں ہر ہفتے کئی ملین ڈالروں کا اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون کے مقابلے میں اب ان کی تنظیم چالیس فیصد کم خوراک خرید سکتی ہے۔