Tuesday, 22 April, 2008, 12:32 GMT 17:32 PST
برطانیہ میں برسٹل کے طالب علم کی دہشت گردی کی شک میں گرفتاری مسلمان کمیونٹی کی دی ہوئی اطلاع پر کی گئی۔
ویسٹ بری ان ٹرائم میں واقع اینڈریو ابراہیم کے گھرمیں محدود پیمانے پر تین دھماکے کیے گئے۔
مسلمان رہنما انیس سالہ طالب علم کی پچھلے جمعرات کوگرفتاری کے حوالے سے اس علاقے میں کمیونٹی کے تعلقات پر پریشان ہیں۔ لیکن فاروق صدیق کا کہنا ہے کہ ’یہ بات یقین دلاتی ہے کہ مسلمان کمیونٹی نے ہی ابراہیم کی حرکات و سکنات پر شک کا اظہار کیا ہے۔‘
’میرے خیال میں یہ بات کافی حوصلہ افزا ہے ۔ اس واقعے کے بعد میری سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ اس علاقے کے لوگ مسلمانوں پر اعتماد نہیں کریں گے۔‘
’لیکن اب اطلاعات کے مطابق مسلمان کمیونٹی نے ہی اس طالب علم کے بارے میں معلومات پولیس کو فراہم کیں۔ اس وجہ سے شہر کے لوگ اب مسلمان کمیونٹی پر اعتماد کریں گے۔‘
کہا جارہا ہے کہ برسٹل میں سکول کے اوقات کے بعد ابراہیم ہاسٹل میں وقت گزارتا تھا۔ سٹی کالج آف برسٹل میں داخلے کے بعد اس کے ہم جماعتوں نے اس کے کردار میں تبدیلی محسوس کی جب اس نے اسلام قبول کیا۔ ابراہیم نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ اس کی زندگی بدل گئی ہے۔
جوش واکر کا کہنا ہے کہ ابراہیم نے تین چار ماہ قبل اسلام قبول کیا تھا۔ واضح طور پر اس کے لباس میں تبدیلی آئی اور اس نے داڑھی رکھ لی۔ ابراہیم وہی شخص رہا لیکن اس کا لباس تبدیل ہوگیا۔
پیر کو کومب پیڈاک کے تمام رہائشی ماسوائے ایک کے اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے تھے۔
انہوں نے اپنے گھر اس وقت چھوڑ دیے جب محدود پیمانے پر دھماکے کیے گیے تھے۔ فورینسک ٹیم ابھی بھی ابراہیم کے فلیٹ کی تلاشی لے رہی ہے۔