امریکہ کے اعلیٰ اہلکار شمالی کوریا پہنچ گئے ہیں جہاں وہ خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے سلسلے میں کی جانےوالی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کی سعی کریں گے۔
امریکہ کی وزارتِ خارجہ کے کوریا کے امور کے اعلی ترین اہلکار سنگ کم بذریعہ سڑک جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کی سرحد عبور کرکے کیمونسٹ ریاست میں داخل ہوئے۔
پیانگ یانگ کو گزشتہ سال کے آخر تک اپنی تمام تر جوہری کارروائیوں اور تنصیبات کی تفصیل پیش کرنے کی مہلت دی گئی تھی جس کو اس نے پورا نہیں کیا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا خطے کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔
خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا اب بھی یورینیم افزودہ کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے اور اس نے جوہری ٹیکنالوجی شام کو بھی منتقل کی ہے۔
شمالی کوریا ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
سرحد عبور کرنے سے پہلے سنگ کم نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس سلسلے میں مثبت پیش رفت ہو گی۔
جنوبی کوریا کے خبررساں ادارے یونہپ نے سنگ کم کے حوالے سے کہا کہ ’ہم اعلامیہ سے متعلق امور پر بات کریں گے اور ہمیں توقع ہے
تفصیلی اور بامعنی مذاکرات ہوں گے۔‘
|
|
شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئے ہیں اور اس کی وجہ جنوبی کوریا میں لی میونگ بک جنوبی کوریا کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں اور انہوں نے شمالی کوریا کے بارے میں سخت پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جنوبی کوریا کے صدر نے جاپانی رہنما یاشو فوکودا اور امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کی جن میں مذاکرات کا محور جنوبی کوریا ہی تھا۔
جاپان کے یاشوفوکودا نے کہا کہ شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کےبارے میں جلد سے جلد پوری تفصیلات فراہم کرے۔
شمالی کوریا نے گزشتہ سال فروری میں ایک تاریخی معاہدے کیا تھا جس کے تحت انہوں نے اپنا مرکزی جوہری ری ایکٹر بند کر دیا اور اس کے عوض اس کی تیل کی ترسیل کو بحال کردیا گیا تھا۔