Tuesday, 22 April, 2008, 03:51 GMT 08:51 PST
حماس کے لیڈر خالد مشعل نے کہا ہے کہ حماس اسرائیلی ریاست کے ساتھ دس سالہ جنگ بندی کے تیار ہے لیکن اسرائیل ریاست کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
فلسطین کے جلا وطن رہنما خالد مشعل کا بیان سابق امریکی صدر جمی کارٹر کےاس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں جمی کارٹر نے کہا تھا کہ حماس اسرائیل کو ہمسایہ قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
جمی کارٹر نے، جو مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں، اسرائیل میں آنےسے پہلے شام میں فلسطینی رہنماء خالد مشعل کے ساتھ ملاقات کی تھی۔
خالد مشعل نے کہا کہ حماس نے غرب اردن ، غزہ اور یورشلم کے مشرق میں اس خطے پر جس پر اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کر لیا تھا، فلسطینی ریاست کی حمایت کی ہے۔
خالد مشعل نے کہا کہ یورشلم ہر صورت میں فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ ہونا چاہیے ۔
خالد مشعل نے پیشکش کی ہے کہ فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کرنے کےمتبادل کے طور پر اسرائیل کے ساتھ دس سال تک جنگ بندی کا معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں بشطریکہ اسرائیل 1967 کی سرحدوں پر واپس چلا جائے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے سابق امریکی صدر جمی کارٹر کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا ہے۔
جمی کارٹر نے اسرائیل کے دورے کے دوران کہا کہ اناپولیس میں اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں کی ملاقات کے بعد مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا عمل رک گیا ہے۔
سابق امریکی صدر نے حماس کے رہنما سے ملاقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ہر اس شخص کے ساتھ ملاقات سے انکاری ہیں جس کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔
جمی کارٹر سے جب کہا گیا کہ حماس تو ایک دہشتگرد تنظیم ہے اور اس کے ساتھ بات چیت کیسے کی جا سکتی ہے تو جمی کارٹر نے کہا کہ پی ایل او بھی ایک وقت دہشتگرد تنظیم گردانی جاتی تھی لیکن اس اب اسی کےساتھ بات چیت کی جاتی ہے۔
جمی کارٹر نے اسرائیلی فوجی گیلٹ شیلٹ کی رہائی کے حوالے سے کہا کہ اسرائیلی فوجی کی رہائی اس لیے ممکن نہیں ہو پا رہی ہے کہ دونوں
فریق ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
جمی کارٹر نے کہا کہ انہیں مصری حکام نےبتایا کہ اسرائیل اپنے فوجی کی رہائی کے بدلے ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کے لیے
تیار ہو گیا تھا لیکن جب حماس نے سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی فہرست فراہم کی تو اسرائیل نے صرف اکہتر قیدیوں کی رہائی کے لیے تیار
ہوا۔