Monday, 21 April, 2008, 09:41 GMT 14:41 PST
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق سعودی عرب میں خواتین کے لیے محرم یا ’گارڈین شپ‘ کے نظام کی وجہ سے خواتین کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔
تنظیم کے مطابق سعودی عورتیں گھر کے کسی مرد کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں۔ انہیں کام کرنے، پڑھنے، سفر یا شادی کرنے اور یہاں تک طبی امداد حاصل کرنے کےلیے بھی اپنے باپ، شوہر یا بیٹے کی اجازت درکار ہوتی ہے اور وہ مستقل بچوں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
’سعودی حکومت خواتین پر مردوں کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے بنیادی انسانی حقوق قربان کر رہی ہے۔‘
|
|
سعودی معاشرہ آج بھی ماضی کی روایات میں بندھا ہوا ہے اور اب بھی عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت نہیں۔
لیکن ساتھ ہی حکومت نے گزشتہ دو برسوں میں ہیومن رائٹس واچ کو اپنی رپورٹ تیار کرنے کی کافی حد تک آزادی دی ہے اور امسال ملازمتوں میں خواتین کی تعداد بڑھی ہے۔ اسی سال ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا ہے جس کے تحت عورتیں اکیلے ہوٹلوں میں ٹھہر سکتی ہیں۔
مقامی مذہبی عمائدین کا خیال ہے کہ محرم کا نظام ملک کے سماجی اور اخلاقی نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ان ضابطوں کا اطلاق عدلیہ اور ایک ’اخلاقی پولیس‘ کی مدد سے کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ’حکام عورتوں کے ساتھ چھوٹے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں جنہوں خود اپنی زندگی پر کوئی اختیار نہیں۔‘ یہ رپورٹ سو عورتوں سے بات چیت کے بعد تیار کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مردوں کی تحریری اجازت کے بغیر نہ عورتیں بچوں کو سکول میں داخل کراسکتی ہیں، نہ ان کے نام سے کھاتہ کھول سکتی ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کے ساتھ سفر کرسکتیں۔