Friday, 18 April, 2008, 10:30 GMT 15:30 PST
ایک امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے ملحق پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد کھلے عام اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس کوئی’ جامع منصوبہ‘ نہیں ہے حالانکہ امریکہ اسے ساڑھے دس ارب ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔
یہ رپورٹ امریکی حکومت کے ادارے، گورمنٹ اکاؤنٹیبلٹی بیورو یا سرکاری احتساب بیورو نے ترتیب دی ہے۔
|
|
ادارے کے مطابق گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کے چھ سال بعد بھی امریکہ کے پاس اسلامی شدت پسندوں سے در پیش خطرے سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ نہیں ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ القاعدہ نے امریکہ پر حملے کرنے کی صلاحیت دوبارہ حاصل کرلی ہے اور یہ کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اس کے کارکنوں کو محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے۔
’ ہمارے خیال میں قومی سلامتی کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے امریکہ کو ایک واضح منصوبے کی ضرورت ہے جس سے فاٹا کے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف موثر انداز میں کارروائی کی جاسکے۔‘