Friday, 18 April, 2008, 00:07 GMT 05:07 PST
افغانستان میں حکام کے مطابق ملک کے جنوبی شہر زرنج میں ایک مسجد کے باہر خودکش حملہ ہوا ہے جس میں کم سے کم بیس لوگ ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔ نیمروز صوبے کے گورنر غلام دستگیر آزاد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک ضلعی پولیس افسر اور بارڈر رِیزرو پولیس کمانڈر شامل ہیں۔
گورنر کے مطابق دھماکہ ایک مسجد کے باہر مصروف بازار میں ہوا اور ممکنہ طور پر حملے میں دو بمبار شریک تھے۔ حملے کے وقت لوگ مسجد میں شام کی نماز کی تیاری کر رہے تھے۔ ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں کہ حملے کے پیھچے کس کا ہاتھ ہے لیکن اس طرح کے حملوں کے لیے طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتاہے۔
افغانستان کے حکام کے مطابق غزنی کے صوبے میں بھی دو واقعات میں کم سے کم بارہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔
افغانستان میں ہزاروں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے باوجود طالبان صدر حامد کرزئی کی حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اس ماحول میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
زرنج صوبے نیمروز کا دارالحکومت ہے جس کی سرحدیں ایران سے ملتی ہیں۔ نیمروز کا شمار ان صوبوں میں ہوتا ہے جہاں بین الاقوامی افواج مستقل بنیادوں پر تعینات نہیں ہیں۔ یہاں حالیہ مہینوں میں تشدد کے واقعات اضافہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ عام خیال ہے کہ جوں جوں طالبان ہلمند کے صوبے میں غیر ملکی افواج کے دباؤ کی وجہ سے نیمروز میں داخل ہو رہے ہیں ان کا وہاں اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔