Wednesday, 16 April, 2008, 23:47 GMT 04:47 PST
اسرائیلی مقبوضہ علاقے غزہ میں کل دن بھر شدید لڑائی کے دوران پندرہ فلسطینی شہری ہلاک ہوئے جن میں پانچ بچے بھی تھے۔ ان کے علاوہ تین اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ اس طرح ایک دن میں ہلاکتوں کی تعداد بائیس تک جا پہنچی جو مارچ میں اسرائیلی کارروائی کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
مارے جانے والوں میں رائیٹرز کا ایک کیمرہ مین بھی شامل ہے۔ اسرائیل نے فوجی کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے مسلح افراد کو نشانہ بنایا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون نے لڑائی کی شدت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جہاں کیمرہ مین ہلاک ہوئے وہ انتہائی خطرناک علاقہ ہے اور وہاں لڑائی ہو رہی ہے۔
بی بی سی کے دفاعی امور کے نامہ نگار نے کہا کہ یہ کہنا مشکل ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں حماس کی طرف سے زیادہ مننظم کارروائیوں کا نتیجہ ہیں یا علاقے میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی موجودگی کا۔
ایک اسرائیلی گروپ کی تحقیق کی مطابق جس کے اسرائیل کی دفاعی انتظامیہ سے قریبی تعلقات ہیں حماس اپنی تاریخ میں اب تک کی سب سے زیادہ عسکری تیاریاں کر رہا ہے۔ کچھ اسرائیلی جرنیلوں کا کہنا ہے کہ حماس کو روکنے کے لیے ایک بڑی فوجی کارروائی ناگزیر ہو جائے گی۔