Thursday, 10 April, 2008, 10:17 GMT 15:17 PST
برطانوی امدادی تنظیم آکسفیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ قدرتی آفات کا انسانی بحرانوں میں تبدیل ہونے کی ایک بڑی وجہ جنوبی ایشیا کی حکومتوں کی ناکامی ہے۔
آکسفیم کے مطابق انسانی بحرانوں میں قدرت سے زیادہ سیاسی غفلت، غلط فیصلے اور ناقص منصوبہ بندی کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس خطے کو سیلاب، خشک سالی اور زلزلے سے خطرہ ہے۔
آکسفیم کے مطابق جاپان میں انیس سو پچانوے میں آنے والے زلزلے کے مقابلے میں دو ہزار پانچ میں کشمیر میں آنے والے زلزلے میں بارہ گنا زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس ضمن میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن مزید کرنے کی ضرورت ہے۔ آکسفیم نے کہا ہے کہ موسم کی تبدیلی سے اس خطے کو زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آکسفیم سےمتفق ہیں کہ آفات کے لیے تیار رہنے سے جانیں بچتی ہیں۔ ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کا کہنا ہے کہ اسی لیے برطانیہ پاکستان میں مضبوط گھر اور پل بنانے میں مدد کر رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں سونامی کی پیشگی اطلاع دینے کے سسٹم کی بھی امداد کر رہے ہے۔
آفات کے اثرات بہت وسیع ہو سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال میں پچھلے سال آنے والے سیلاب سے تیس ملین افراد متاثر ہوئے۔
|
|
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں ہر سال جی ڈی پی کا چھ فیصد حصہ ان آفات سے ہونے والے نقصان میں صرف ہوتا ہے جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کی معاشی ترقی نہیں ہو پاتی۔ لیکن حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔
آکسفیم نے سائیکلون کے شیلٹر اور پیشگی اطلاع کے نظام پر بنگلہ دیش کی تعریف کی ہے۔ ’صحیح اقدام اور تیاریاں جانیں بچا سکتی ہیں اور آفات سے ہونے والا نقصان بھی کم ہوسکتا ہے اگر تیاری مکمل کی گئی ہو۔‘