http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 09 April, 2008, 04:47 GMT 09:47 PST

فوج کی واپسی پر نظر ثانی کی تجویز

عراق میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹرئس نے کہا ہے کہ جولائی کے بعد عراق سے امریکی فوج کی واپسی کے عمل کو روک دینا چاہیے۔

امریکی کمانڈر نے یہ بات امریکی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کہی۔

جنرل پیٹرئس اور عراق میں تعینات امریکی سفیر رائن سی کراکر منگل کے روز پہلے سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور پھر سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سامنے۔

جنرل پیٹرئس کا کہنا تھا کہ عراق میں صورتحال ستمبر کے مقابلےمیں بہتر ہوئی ہے، جب انہوں نے عراق کی صورتحال سے سینیٹ کو پچھلی مرتبہ آگاہ کیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب بھی صورتحال نازک ہے اور جلد بگڑ سکتی ہے لہذا جولائی تک افواج کی واپسی کے منصوبے پر عمل ہونا چاہیے لیکن اس کے بعد فوج کی پوزیشن کو مضبوط بنانے پر توجہ دینا مناصب ہوگا۔

جولائی تک تقریباً بیس ہزار امریکی فوجیوں کو عراق سے واپس بلا لیا جائے گا۔

جنرل پیٹرئس کا کہنا تھا کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ سال کے آخر تک عراق میں کتنے امریکی فوجی ہونگے۔ فی الوقت عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہے۔

امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ اگر عراق سے جلدبازی کر کے امریکی فوج کو واپس بلا لیا جاتا ہے تو صورتحال بگڑ سکتی ہے کیونکہ اس صورت میں شاید اقوام متحدہ، امریکہ کے عرب حمایتی اور عراقی فوج خود حالات کی ذمہ داری نہ سنبھالیں، اور یہ پھر امریکی فوج کو مہنگا پڑے۔

عراق میں امریکی سفیر رائن سی کراکر کا کہنا تھا کہ عراق میں پیش رفت مشکل سے ہوئی ہے لیکن اب امریکہ اور عراق اپنے تعلقات کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں اور بات چیت میں امریکی فوج کی عراق میں طویل مدت کے لیے تعیناتی کے موضوع کو شامل کیا گیا ہے۔

امریکی صدارتی انتخابات کے تین ممکنہ امیدوار بھی کمیٹی کی سماعت میں موجود تھے اور اس دوران تینوں نے عراق پر اپنے موقف کو دہرایا۔ ریپبلکن امیدوار سینیٹر جان مکین نے عراق کی صورتحال پر مثبت سوچ رائے کا اظہار کیا جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ممکنہ امیدوار براک اوبامہ اور ہلیری کلنٹن نے عرق سے افواج کی واپیس کے معاملے پر زور دیا۔

براک اوبامہ نے یہ بھی کہا کہ عراق کے حوالے سے امریکہ کو ایران سے مذآکرتا کرنے چاہئیں کیونکہ اسیے کیے بغیر وہ صورتحال کو مستحکم نہیں کر سکے گا۔