Wednesday, 09 April, 2008, 06:47 GMT 11:47 PST
عراقی پر امریکی افواج کے قبضے کو پانچ برس مکمل ہونے کے موقع پر بدھ کو دارالحکومت بغداد میں سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر ہر قسم کی گاڑیوں کی آمدو رفت پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
عراق کی حکومت کے مطابق بدھ کو آدھی رات تک سڑکوں پر گاڑیاں اور موٹر سائکلیں نہیں چل سکیں گی۔
امریکی افواج نے پانچ سال قبل آج ہی کے دن شہر کے وسط میں واقع مغزول صدر صدام حسین کے ایک قدآدم مجسمے کو توڑا تھا۔ یہ تصاویر دنیا بھر میں دکھائی گئی تھیں اور مجسمے کی مسماری کو صدام حسین کے دور کے خاتمے کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
شیعہ ملیشیاء مہدی آرمی کے سربراہ مقتدی الصدر نے پہلے ہی سکیورٹی کے خدشات کی وجہ سے ایک بڑے امریکہ مخالف مظاہرے کا منصوبہ ترک کر دیا تھا۔ بغداد میں شیعہ آبادی والے علاقے صدر سٹی میں مہدی آرمی اور امریکی اور عراقی افواج کے درمیان منگل کو بھی جھڑپیں ہوئیں۔ طبی کارکنوں کے مطابق لڑائی میں بارہ افراد ہلاک ہوئے۔
مقتدی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اگر ضروری ہوا تو اپنے اغراض و مقاصد، نظریات، مذہب اور اصولوں کی خاطر ہم جنگ بندی ختم کر دیں گے۔‘
پیر کے روز عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا تھا کہ مہدی آرمی اگر غیر مسلح نہیں ہوتی تو مقتدی الصدر کو سیاست میں حصہ نہیں لینے دیا جائے گا۔
اتوار کو سرکردہ امریکی ماہرین نے عراق کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سیاسی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے امریکی افواج وہاں ایک لمبی اور مہنگی لڑائی میں پھنس سکتی ہیں۔
امریکی انسٹی ٹیوٹ برائے پیس ( یو ایس آئی پی) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیاسی پیش رفت اتنی کم اور اتنی سست ہے، اور سیاسی اور سماجی تقسیم اتنی زیادہ ہے، کہ امریکہ عراق سے نکلنے سے آج بھی اتنا ہی دور ہے جتنا کہ ایک سال پہلے تھا۔