Tuesday, 08 April, 2008, 06:51 GMT 11:51 PST
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں کی جانچ کے لیے اقوام متحدہ کے نامزد تفتیش کار اپنے اس بیان پر قائم ہیں کہ غزہ میں اسرائیل کا رویہ نازیوں جیسا رہا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پروفیسر رچرڈ فالک نے کہا کہ ان کے خیال میں اسرائیل کی جتنی مذمت کی جانی چاہیئے تھی وہ اس سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔
پروفیسر فالک اس سال اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ لیکن اسرائیل چاہتا ہے کہ پروفیسر فالک کی تفتیش کے دائرہ کار میں فلسطینیوں کی سرگرمیوں کا بھی احاطہ کیا جائے۔
ان کے مطابق انہیں معلوم ہے کہ یہ ایک اشتعال انگیز بیان ہے لیکن گزشتہ برس جب انہوں نے یہ بات کہی تھی تو وہ امریکیوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنا چاہتے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اگر چین نے تبت میں یا سوڈان نے دارفور میں اس (اسرائیل جیسے) انداز میں کارروائی کی ہوتی تو میرے خیال میں نازیوں سے موازنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔‘
پروفیسر فالک کا بیان اقوام متحدہ کے موجودہ تفتیش کار جان ڈوگارڈ کے خیالات سے بھی سخت ہے جو خود اسرائیل کی کارروائیوں سے ناخوش رہے ہیں۔
اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان کے مطابق اسرائیل چاہتا ہے کہ پروفیسر فالک اسرائیل اور فلسطین دونوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیں۔
ترجمان کے مطابق اگر ایسا نہیں ہوا تو اسرائیلی حکومت پروفیسر فالک کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا سکتی ہے۔