Tuesday, 08 April, 2008, 09:14 GMT 14:14 PST
ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر احمدی نژاد نے ایران کی یورنیئیم افزودہ کرنے کی صلاحیت میں زبردست اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی صدر نے ملک کی سب سے بڑی جوہری تنصیب نتانز کے دورے کے موقع پر کہا ہے کہ سائنسدان چھ ہزار نئے سنٹری فیوج لگا رہے ہیں۔
ایران کے پاس تین ہزار سنٹری فیوج پہلے سے موجود ہیں جن کی وجہ سے مغربی دنیا یہ شبہ ظاہر کرتی رہی ہے کہ ایران در پردہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کی جانب سے اس اعلان پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی تشویش ہوگی کیونکہ وہ سن دو ہزار چھ سے تین مرتبہ ایران کے خلاف پابندیوں کا اعلان کر چکی ہے۔
اقوام متحدہ کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی بند کرے لیکن ایران اس کا مطالبے کو یہ کہہ کر مسترد کرتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
افزودہ یورینیم بجلی بنانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن زیادہ مقوی کیے جانے کی صورت میں اس سے جوہری بم بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
اس پس منظر میں سلامتی کونسل کا اپریل میں ایک اجلاس ہونے والا ہے جس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا ایران کو اپنا جوہری پروگرام ختم یا کم کرنے کے لیے سن دو ہزار چھ میں جن مراعات کی پیش کش کی گئی تھی انہیں بہتر بنایا جائے یا نہیں۔