Sunday, 06 April, 2008, 04:25 GMT 09:25 PST
زمبابوے میں صدر رابرٹ موگابے کی پارٹی زانو پی ایف نے الیکشن حکام سے صدارتی انتخاب کے نتائج روکنے اور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کردیا ہے۔
سرکاری اخبار سنڈے میل کا کہنا ہے کہ زانو پی ایف نے یہ مطالبہ اس لئے کیا ہے کہ کیونکہ پارٹی کے مطابق ووٹوں کی گنتی میں ’غلطیاں‘ ہوئی ہیں۔
اخبار نے ایک سینئیر وزیر کے حوالے سے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی نے اپوزیشن کی طرف سے متحدہ حکومت کے مطالبے کو بھی رد کردیا ہے۔
ہفتے کے روز اپوزیشن نے صدر موگابے پر ’الیکشن کی جنگ‘ شروع کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
اپوزیشن جماعت ایم ڈی سی کے رہنما مورگن چنگرائی نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلح افراد کو بحال کیا جارہا ہے اور فوج کو الیکشن کے ممکنہ دوسرے مرحلے سے پہلے تعینات کیا جارہا ہے۔
مسٹر چنگرائی نے یہ دعٰوی بھی کیا تھا کہ ملک کا مرکزی بینک ’تشدد کو فنانس‘ کرنے کے لئے نئے کرنسی نوٹ چھا پ رہا ہے۔ انہوں نے صدر موگابے سے اقتدار کی منتقلی کے لئے پر امن مذاکرات کے لئے اپیل کی تھی۔
دوسری طرف زمبابوے کا ہائی کورٹ اتوار کے روز ایم ڈی سی کی اس درخواست پر بھی سماعت کررہا ہے جس میں الیکشن کے نتائج جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
چوراسی برس کے صدر موگابے انیس سو اسی میں سفید فاموں سے آزادی کے وقت قومی رہنما بن کر ابھرے تھے لیکن پچھلے چند برسوں سے زمبابوے میں دنیا کا سب سے زیادہ افراطِ زر، ایندھن اور خودرنی اشیا کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل سے لوگ بہت پریشان ہیں۔