Thursday, 03 April, 2008, 16:31 GMT 21:31 PST
زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے کی جماعت زانو پی ایف کے ترجمان نے کہا ہے کہ موگابے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نائب وزیرِ اطلاعات برائٹ مٹونگا کا کہنا ہے کہ اگر سنیچر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اگلے مرحلے میں جانا ضروری ہے تو صدر موگابے اس کے لیے تیار ہیں۔
زمبابوے کے صدارتی انتخابات کے سرکاری نتائج کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے تاہم حزب اختلاف نے انتخابات میں کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔
برائٹ مٹونگا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر نتائج کے بعد کسی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہ ہوئی تو قانون کے مطابق دوسرا مرحلہ منعقد کیا جاتا ہے۔
انتخابی قوانین کے مطابق جیتے والے صدارتی امیدوار کو پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
بدھ کو الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نتائج کے مطابق موگابے کی جماعت کو عوامی مقبولیت کے اعتبار سے پینتالیس اعشاریہ نو جبکہ حزب اختلاف کی بڑی جماعت موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج یا ڈی ایم سی کو بیالیس اعشاریہ آٹھ فی صد حمایت حاصل ہے۔
تاہم حتمی سرکاری نتائج کے مطابق ڈی ایم سی کو پارلیمان کے اندر زانو پی ایف پر برتری حاصل ہوگئی ہے۔