http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 30 March, 2008, 11:25 GMT 16:25 PST

بیورو رپورٹ
بی بی سی نیوز

حزبِ اختلاف کا برتری کا دعوی

زمبابوے کی حکومت اور الیکشن کمشنر نےحزبِ اختلاف ’دی موومنٹ فار ڈیموکریٹک چینج‘ کو خبردار کیا ہے کہ وہ صدارتی الیکشن میں وقت سے پہلے اپنی جیت کا اعلان نہ کرے۔

جماعت کے سیکرٹری جنرل ٹنڈائی بٹی نےآج صبح ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی جماعت الیکشن جیت چکی ہے اور اس رحجان کو واپس نہیں موڑا جا سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولنگ سٹیشنزپر چسپاں ابتدائی نتائج کے مطابق مسٹر سوانگیرائی کو ہرارے میں چھیاسٹھ فیصد برتری حاصل ہے۔

زمبابوے میں ووٹوں کی گنتی جاری حالیہ صدر رابرٹ مگابے کو انتخابات میں ایم ڈی سی کے مورگن سوانگیرائی اور آزاد امید وار سمبا مکونی سے صدارتی عہدے کے لیے مقابلے کا سامنا ہے ۔

حتمی نتائج مرتب ہونے میں ابھی کچھ دن لگ سکتے ہیں اور حکومت نے اس ضمن میں ایم ڈی سی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قبل از وقت اپنی فتح کا اعلان نہ کرے جبکہ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ابتدائی نتائج انتخابات میں اس کی کامیابی کو ظاہر کرتے ہیں۔

جنوبی افریقہ میں بی بی سی کے نمائندے پیٹر بائلز کے مطابق ایم ڈی سی کے بیانات جانبدارانہ ہیں اور غیر سرکاری نتائج پر مبنی ہیں۔بی بی سی کے نامہ نگار کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر مگابے اور ان کی حکمران زانو پی ایف کودیہی علاقوں میں ہمیشہ برتری حاصل رہی ہے اور یہ علاقے انتخابی نتائج متعین کر سکتے ہیں۔