Saturday, 29 March, 2008, 21:45 GMT 02:45 PST
بغداد کی فوجی کمان نے عراقی دارالحکومت میں غیر معینہ عرصے کے لیے مسلسل کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
عراق میں شیعہ ملیشیا اور افواج کے مابین جھڑپوں کے بعد جو بغداد تک پھیل گئی تھیں جمعرات کو کرفیو نافذ کر دیا جو اتوار کو رات دو بجے کے قریب ختم ہونے والا تھا۔
لیکن مہدی ملشیا کے سربراہ مقتدیٰ الصدر کے اس اعلان کے بعد کہ وہ عراقی وزیراعظم کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالیں گے، بغداد میں نافد کرفیو میں غیر معینہ عرصے کی توسیع کر دی گئی۔
دریں اثنا اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی افواج بھی بصرہ میں شیعہ ملیشیا اور دوسرے گروہوں سے جاری جنگ میں براہِ راست شامل ہو گئی ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ برطانوی افواج نے بصرہ میں جنگجوؤں کے ان ٹھکانوں پو توپخانے سے گولہ باری کی جہاں سے عراقی افواج پر گولہ باری کی جاری تھی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ بصرہ میں عراقی افواج اور شیعہ ملیشیاؤں کے مابین جاری جنگ میں عراق میں موجود کسی غیر ملکی فوج نے حصہ لیا ہو۔
بصرہ میں عراق میں برطانوی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ کارروائی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔
![]() |
|
| بصرہ میں بمباری کے دوران عراقی خواتین کی آہ زاری |
وزیر اعظم نورالمالکی نے مہدی ملیشیا کو پیسے لے کر ہتھیار ڈالنے کے لیے پہلے بہّتر گھنٹے یا تیان دن کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ اگر اس مدت میں ہتھیار نہیں ڈالے گئے تو نتائج کی ذمہ داری ہتھیار نہ ڈالنے والوں پر ہو گی لیکن اس کے بعد اس مہلت میں مزید دس دن کی توسیع کر دی گئی۔
مہدی ملیشیا کے ایک سینیئر اہلکار حارث الاطہری نے بصرہ میں بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس عراقی حکومت کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے جو عراق پر امریکی قبضہ ختم کرے گي۔
عراق کے شہر نجف میں واقع مہدی ملیشیا کے ہیڈکوارٹر کے ایک اہلکار حیدر الجباری نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہیں ہتھیار نہ ڈالنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ’مقتدی الصدر نے ہمیں اس وقت تک ہتھیار نہ ڈالنے کے لیے کہا ہے جب تک امریکہ کو ملک سے باہر نہ پھینک دیا جائے‘۔