Wednesday, 26 March, 2008, 23:28 GMT 04:28 PST
عراقی وزیراعظم نوری المالکی نے بصرہ میں شیعہ ملیشیا کو ہتھیار ڈالنے کے لیے بہتر گھنٹوں کی مہلت دی ہے اور کہا ہے کہ بصورت دیگر انہیں ’کڑی قیمت‘ ادا کرنی پڑے گی۔
مسٹر مالکی نے یہ دھمکی مہدی آرمی کے شیعہ جنگجوؤں کے خلاف جاری اس کارروائی کے دوسرے دن دی ہے جس میں اب تک شدید جھڑپوں کے نتیجے میں چھیالیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ جھڑپیں عراقی دارالحکومت بغداد کے محفوظ ترین علاقے گرین زون تک پھیل چکی ہیں اور ان میں بغداد میں واقع صدر سٹی شامل ہے۔
بصرہ کے کئی اضلاع میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے لیے بی بی سی تجزیہ نگار راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ بصرہ کی جھڑپوں میں شدت پسندوں اور جرائم پیشہ لوگوں کے مختلف النوع گروہ بھی شامل ہیں تاہم حکومت کی اب تک ظاہر نہ کی جانے والی خواہش یہ ہے کہ ان سب کی قیادت مہدی آرمی کے ہاتھوں میں نہ جائے۔
دو روز کے بعد بصرہ میں خاموشی کی پہلی رات ہے۔
اس سے پہلے کی ملنے والی اطلاعات کے مطابق مقتدی الصدر کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کا مقصد اکتوبر کے صوبائی انتخابات سے قبل انہیں کمزور کرنا ہے۔ جب کہ راجر ہارڈی کا کہنا ہے کہ المالکی کی حکمتِ عملی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اگر مقتدی الصدر کی جانب سے پچھلے ایک برس سے جاری فائربندی ختم کر دی جاتی ہے تو اس سے عراقی حکومت اور بش انتظامیہ کے ان دعووں کی کوئی حیثیت نہیں رہے گی کہ عراق میں خانہ جنگی کا خاتمہ ہو رہا ہے اور ملک اب سیاسی مفاہمت کی طرف روانہ ہے۔
سکیورٹی فورسز تشدد سے متاثرہ علاقوں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے نہیں دے رہی ہے اس لیے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس لڑائی میں کسے برتری حاصل ہو رہی ہے۔
سرکاری اہلکار کرنل کریم الزیدی نے امریکی خبررساں ادارے اے پی کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز کو شہر کے مرکزی علاقوں میں مہدی آرمی کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔